Top Panel
You are here: HomeNewsItems filtered by date: April 2017
Items filtered by date: April 2017 - Islamic Media J & K

Srinagar: A veteran 80 years old Jama’at activist from Sopore Sheikh Mohammad Yousuf has again been detained under the draconian law of Public Safety Act (PSA). He was apprehended by police station Sopore on 08/08/2016 and on 10th of August 1st detention order was imposed upon him and kept in district jail Kupwara. The high court quashed his detention keeping his old and infirm age in addition to the prima facie false allegation in view but the police quite contrary to the court orders kept him in police station Sopore and on 24/11/2016 he was again detained under Public Safety Act. This order was also quashed but the detenue was again shifted to police station Sopore and on 18th of March, 2017, 3rd detention order was passed and he was taken to Baramullah Jail. Another activist of Jama’at from Kader village of Kulgam Ghulam Mohi-ud-din Kuchay is languishing in police station Kulgam and is not being released despite bail order from the court. Moreover other political detenues and prisoners who because of their support to the Kashmir cause are languishing in different jails for years together. Those political activists undergoing life imprisonment include Dr. Mohammad Qasim (Srinagar), Dr. Mohammad Shafi Khan (Khansahib, Budgam), Maqsood Ahmad Bhat (Pattan), Farooq Ahmad Sheikh (Bhaderwah), Mushtaq Ahmad Malla (Kupwara), Ghulam Mohammad Bhat (Khag, Budgam), Abdul Hameed Teli (Kulgam), Parvez Ahmad Mir (Tral), Feroz Ahmad Bhat (Tral), Mohammad Ishaq Pala (Minor: Shopian), Ghulam Qadir Bhat (Kupwara). Usually the life convicts are released after passing ten to fourteen years in jail but these political prisoners face biased and retributive attitude from the  administration and some of them even after passing twenty or more years in jail are not being released. This is only because they are supporting the just and genuine cause of Kashmiri people. Jama’at-e-Islami demands unconditional release of all detainees and political prisoners including those youth who are languishing in jails and police stations on the allegations of stone-pelting during the protests.

 

 
 
Attachments area
 
 
 
 
 
Published in News

80 years Jama’at activist victim of political vengeance

Srinagar: A veteran Jama’at activist from Sopore Sheikh Mohammad Yousuf of eighty years of age has been once again detained under the draconian law of Public Safety Act (PSA), after keeping him under judicial custody for more than three months in district jail Kupwara wherein he was lodged in a fake case by Sopore police after his first detention under the PSA was quashed by the local High Court after taking notice of his old age and infirm health in his personal presence. The Sopore police instead of releasing him as per the court directions, under a false case shifted him to Kupwara from Baramullah jail. Jama’at-e-Islami Jammu and Kashmir vehemently denouncing the inhuman attitude of Sopore police impresses upon the release of Sheikh Mohammad Yousuf and other political detenues and prisoners who because of their support to the Kashmir cause are languishing in different jails for years together. Those political activists undergoing life imprisonment include Dr. Mohammad Qasim (Srinagar), Dr. Mohammad Shafi Khan (Khansahib, Budgam), Maqsood Ahmad Bhat (Pattan), Farooq Ahmad Sheikh (Bhaderwah), Mushtaq Ahmad Malla (Kupwara), Ghulam Mohammad Bhat (Khag, Budgam), Abdul Hameed Teli (Kulgam), Parvez Ahmad Mir (Tral), Feroz Ahmad Bhat (Tral), Mohammad Ishaq Pala (Minor: Shopian), Ghulam Qadir Bhat (Kupwara). Usually the life convicts are released after passing ten to fourteen years in jail but these political prisoners face biased and retributive attitude from the administration and some of them even after passing twenty or more years in jail are not being released. This is only because they are supporting the just and genuine cause of Kashmiri people. Jama’at-e-Islami demands unconditional release of all detainees and political prisoners including those youth who are languishing in jails and police stations on the allegations of stone-pelting during the protests.

Advocate Zahid Ali

Spokesperson

Jama’at-e-Islami Jammu and Kashmir

Published in News

طلبا پر پولیس کی یلغار انتہائی شرمناک //جماعت اسلامی

 پولیس کا رویہ فرائض کی ادائیگی نہیں بلکہ اختیارات کا غیر اخلاقی اور ناجائز استعمال ہے

سرینگر//وادی بھر کے تعلیمی اداروں میں پلوامہ کالج سانحہ پر طلبا و طالبات نے پُرامن مظاہرہ کرکے اپنے جمہوری اور انسانی حق کا استعمال کیا لیکن یہاں کی پولیس نے جس طرح ان مظاہروں کو طاقت کے ذریعے روکنے کی بدترین کوششیں کیں وہ جملہ جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کی صریح پامالی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ظلم و جبر کے خلاف اگر آواز بلند نہ کی جائے تو دنیا میں قتل و غارت گری اور فتنہ و فساد کا بول بالا ہوگا، اس لیے ہر ایک انسان پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کرے۔ پلوامہ ڈگری کالج میں اگر بے لگام بھارتی فورسز اہلکار اور پولیس داخل نہ ہوئی ہوتی تو درجنوں بے گناہ طلبا و طالبات زخمی نہ ہوئے ہوتے اور ضلع پلوامہ اور ملحقہ علاقوں کے سینکڑوں گھرانوں کا چین و سکون برباد نہ ہوا ہوتا! اس کے بعد زیر حراست طلبا کے ساتھ بھارتی فورسز نے جو وحشیانہ سلوک کیا اس پر دنیا کے سارے انسان دوست لوگ سراپا احتجاج نہ ہوتے! بیرونِ ہند میڈیا نے ان انسانیت سوز حرکات پر زبردست ملامت کی لیکن یہاں کے مقتدرحضرات پر جوں تک نہ رینگی۔ مسلمان عورتوں کے ساتھ جھوٹی اور مکارانہ ہمدردی دکھانے والے اس وقت کہاں ہیں؟ یہاں کی طالبات کے ساتھ جو توہین آمیز اور غیر انسانی سلوک بھارتی فورسز اہلکاروں نے روا رکھا اس پر اُن کی زبانیں گنگ کیوں ہیں؟ مقامی پولیس سے یہاں کے لوگوں کو یہ توقعات تھیں کہ وہ انہیں تحفظ فراہم کرے گی لیکن عملاً جو کچھ ہورہا ہے وہ ان توقعات کے بالکل برعکس ہے۔ پولیس کا عوام کے ساتھ یہ رویہ انتہائی افسوسناک ہے اور طلبا و طالبات پر جس طرح ان اہلکاروں نے طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے درجنوں معصوم طلاب کو زخمی کردیا‘ انتہائی شرم ناک ہے۔ یہ فرائض کی ادائیگی نہیں بلکہ اپنے اختیارات کا غیر اخلاقی اور ناجائز استعمال ہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ وادی کے تمام طالب علموں سے مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں ان پر سرکاری انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے طاقت کے غیر قانونی استعمال کی کڑی مذمت کرتی ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ ایک غیر جانبدار بین الاقوامی ایجنسی کے ذریعے وادی میں پیش آئے تمام سانحات کی تحقیقات کی جائے۔ یہاں کی نام نہاد حکومت کی طرف سے تحقیقات کرانے کے اعلانات کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے جماعت اسلامی ان کو سرے سے مسترد کرتی ہے۔

ایڈوکیٹ زاہد علی

ترجمان

جماعت اسلامی جموں وکشمیر

Published in News

فورسز کی طرف سے نوجوانوں پر تشددانتقامی کارروائی //جماعت اسلامی

سرینگر//بھارتی فورسز کے ہاتھوں نوجوانوں پر دوران حراست تشدد ڈھانے کی دل دہلانے والی جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فورسز نے اپنے فوجی سربراہ کے اُس حکم کو عملانے کا کام شروع کیا ہے جس میں یہاں کے نوجوانوں کے ساتھ سختی سے نپٹنے کی ہدایت دی گئی ہے نیز بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ایک سال کے اندر یہاں حالات سدھارنے کے دعوے میں بھی اس ہدایت کی درپردہ حمایت ظاہر ہوتی ہے۔بھارتی فوجیوں کے اس وطیرہ سے ایسا لگتا ہے کہ اُن کو یہاں کے عوام کے انسانی جذبات کا کوئی خیال ہی نہیں ہے۔ ان واقعات میں جس لاقانونیت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ تمام جمہوری اور آئینی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ نیز پلوامہ کالیج کے باہر ٹاسک فورس کی طرف سے ناکہ لگانے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر جس طرح بے تحاشا طاقت کا استعمال کرکے درجنوں بے گناہ طلبا کو زخمی کیا گیا‘ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پولیس کی یہ کارروائی جان بوجھ کر امن عامہ کو خراب کرنے اور کالیج کے تعلیمی ماحول کو درہم برہم کرنے کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ فورسز اہلکاروں کے زیر حراست نوجوانوں پر تشدد اور پلوامہ میں معصوم طلبا کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال کو ایک انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف عبرتناک کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے اور انسانی حقوق سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی اداروں پر زور دیتی ہے کہ وہ ان انسانیت سوز کارروائیوں کا فوری نوٹس لے کر ان کو رکوانے کی خاطر ضروری اقدامات کریں۔

ایڈوکیٹ زاہد علی

ترجمان

جماعت اسلامی جموں وکشمیر

Published in News

تمام ہندنوا ز پارٹیاں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے //جماعت اسلامی

نیشنل کانفرنس تمام ملحدانہ اور اسلام دشمن نظریات کی جنم بھومی 

سرینگر//جہاں تک انتخابی سیاست کا تعلق ہے‘ جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے عرصہ قبل یہ فیصلہ لیا ہے کہ جماعت ان انتخابات میں بلاواسطہ یا بالواسطہ کوئی حصہ نہیں لے گی اور جماعت سے وابستہ لوگوں کو بھی یہ ہدایت دی گئی ہے کہ انتخابی سیاست سے بالکل کنارہ کش رہیں اور اس میں اشارةً یا کنایةً بھی کسی قسم کی دلچسپی کا اظہار نہ کریں۔ جماعت اپنے اس فیصلے پر آج بھی پابند اور کاربند ہے۔ مختلف حلقوں کی طرف سے اس سلسلے میں جو ہرزہ سرائیاں کی جارہی ہیں اور ایک مخصوص ہندنواز پارٹی کو ماضی میں حمایت کرنے کے جو الزامات جماعت پر لگائے جارہے ہیں وہ قطعاً بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔حال ہی میں نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جماعت سے فرقہ پرست قوتوں کے عمل دخل کو ختم کرانے کی خاطر‘ حمایت کی جو اپیل کی ہے وہ عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی موجب بن سکتی ہے۔ نیز ایک اور نیشنلی لیڈر روح اللہ بڈگامی نے بی جے پی کے یہاں داخلے کے لیے جماعت اسلامی کو جو مورد الزام ٹھہرایا وہ ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ کے مترادف ہے۔ نیشنل کانفرنس کی بنیاد ہی اسلام دشمنی اور غیر اسلامی قوتوں کی حوصلہ افزائی پر قائم ہے اور” نیا کشمیر“ کا نعرہ دے کر اس نے یہاں ہندوانہ اور ملحدانہ فلسفوں کے لئے پنپنے کی راہ ہموار کی۔ یہ واضح تبدیلی 1938ءمیں اُس وقت ظاہر ہوئی جب مسلم کانفرنس کو انہی قوتوں کی ایما پر نیشنل کانفرنس میں تبدیل کیا گیا۔ پھر 1947ءمیں یہاں کے اکثریتی عوام کی خواہشات کے علی الرغم بھارت کے ساتھ جبری الحاق کی تصدیق کرکے مرحوم شیخ عبداللہ وزارت اعظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہوئے۔ جموں میں اسی دوران مسلم کش فسادات میں موصوف کا رول سب پر عیاں ہے۔ 1953ءمیں اقتدار سے بے دخلی کے ردّ عمل میں بدنیتی پر مبنی تحریک رائے شماری شروع کی اور 1975ءمیں اندرا عبداللہ ایکارڈ کرکے وزیر اعلیٰ جو بن گئے تو گذشتہ بائیس سالہ جدوجہد کو سیاسی آوارہ گردی کا نام دیا ۔ چونکہ جماعت اسلامی اوّل روز سے ہی نیشنل کانفرنس کے ملحدانہ اور دین دشمنانہ نظریات اور سرگرمیوں کی برملا تنقید کرتی رہی اور دھوکہ دہی پر مبنی ایکارڈ کو بھی مسترد کردیا، اسی لیے انتقام گیری کا لاوا اُس وقت پھٹ گیا جب 1975ءمیں ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی جماعت اسلامی پر پابندی عائد کی گئی اور اِس کے سینکڑوں درسگاہوں کو جہاں ہزاروں طلبا و طالبات کو مروجہ علوم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی تھی‘ جبراً بند کرایا گیا۔ پھر 1979ءمیں جب پاکستان میں مسٹر بھٹو کو پھانسی دی گئی تو پاکستان سے جذباتی لگاﺅ کی بناپر یہاں کے عوامی جذبات کا استحصال کرکے لوگوں کو جماعت اسلامی کے خلاف بھڑکایا گیا اور وابستگان جماعت کے ساتھ وہ وحشیانہ سلوک کیا گیا جس کی یہاں کوئی مثال ہی نہیں ملتی۔ اُن کے گھروں اور دیگر جائیداد کو جلایا گیا، تہس نہس کیا گیا، لوٹا گیا، اسلامی لائبرریوں اور درسگاہوں کو بھی زمین بوس کیا گیا، قرآن پاک کے نسخوں، اسلامی لٹریچر اور شعائر کی شرمناک توہین کرائی گئی۔ یہ سب کشمیر کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب کی حیثیت میں ثبت ہوچکا ہے۔1987ءکے انتخابی ڈھونگ میں شرمناک دھاندلیاں انجام دے کر کرسی اقتدار حاصل کی گئی اور بعد میں سیاسی مخالفین کے ساتھ جو بدترین سلوک کیا گیا وہ بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ 1996ءمیں اسی ٹولے کے مشوروں پر یہاں بدنام زمانہ پولیس ٹاسک فورس اور بے لگام سرکاری بندوق برداروں کے خون خوار ٹولے تشکیل دیے گیے اور جماعت سے وابستہ اور دیگر حریت پسندہزاروں بے گناہوں کو شہید کرایا گیا اور اسی خون ناحق کے عوض ایک بار پھر اقتدار حاصل کیاگیا۔2002ءکے گجرات فسادات کے وقت اسی ٹولے کے چشم و چراغ مسٹر عمر عبداللہ دہلی میں بھاجپائی حکومت میں ایک اہم وزارتی منصب پر فائز تھا لیکن مسلمانوں کے قتل عام پر کوئی ردّ عمل ظاہر نہ ہوا۔ 2008ءسے شروع ہونے والی عوامی تحریکوں میں ان کا منفی رول ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ جہاں تک کانگریس، پی ڈ ی پی، کمیونسٹ وغیرہ جیسی ہندنواز پارٹیوں کا تعلق ہے ان سب کی جنم بھومی نیشنل کانفرنس ہی ہے۔ مرحوم بخشی غلام محمد، مرحوم غلام محمد صادق، مرحوم میر قاسم اور دیگر ہند نواز اور اسلام بے زار لیڈران بھی اسی ٹولے کے ملحدانہ خیالات کے پروردہ ہیں۔ مرحوم مفتی سعید کو مرحوم میر قاسم کے دورِ وزارت میں تعارف حاصل ہوا اور اس طرح اس ٹولے کو ایک اور کھلاڑی نصیب ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ہندوانہ اور ملحدانہ فلسفوں کے لیے نیشنل کانفرنس نے ہی دروازہ کھولا اور دعوتیں دے دے کر انہیں یہاں روشناس کرایا۔ اگر 1938ءمیں نیشنل کانفرنس برسروجود نہیں آتی تو کشمیری قوم کو موجودہ مصائب سے دوچار ہی نہیں ہونا پڑتا۔ اس طرح یہ سب ٹولے ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ عوام کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جماعت اسلامی کی طرف سے ان ٹولوں کو حمایت ملنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایڈوکیٹ زاہد علی

ترجمان

جماعت اسلامی جموں وکشمیر

Published in News

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker