Top Panel
You are here: HomeNewsItems filtered by date: August 2015
Items filtered by date: August 2015 - Islamic Media J & K

Jama’at is neither in a state of decline nor is it facing any existential crisis. Scholar Iymon Majid writes the Islamist party is in a state of a self-correcting mode

 

Jama’at-e-Islami in J&K needs to be understood in the discourse of ‘political Islam’ (the closest one can define its politics). Political Islam is an ideology that uses a political system while employing modern means and institutions to shape a society according to Islam. It comments on both the public and private spheres of individuals to form a state (Dawla) ruled by laws and the model code of conduct derived from Qur’an, and Sunnah.

Published in News

جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے مجلس نمائندگان کا اجلاس نوگام میں منعقد ہوا

خواجہ غلام محمد بٹ آئندہ تین سال کے لیے امیر جماعت منتخب

سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی نو منتخبہ مجلس نمائندگان کا یک روزہ اجلاس آج نوگام سرینگر میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئندہ تین سال کے لیے(ستمبر۲۰۱۵ء ؁ تا اگست۲۰۱۸ء ؁) خواجہ غلام محمد بٹ کثرت رائے کے ساتھ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے امیر منتخب ہوئے۔غلام محمد بٹ اس سے قبلتین بار امیر جماعت رہ چکے تھے۔ ۱۹۸۵ء ؁ سے ۱۹۸۸ء ؁ تک جناب سعد الدین صاحبؒ کے بعد تین سال کے لیے پہلی مرتبہ امارت کے منصب پر فائزہوئے، پھر حکیم غلام نبی کے بعد۱۹۹۷ء ؁ سے ۲۰۰۰ء ؁ تک تین سال کے لیے دوسری مرتبہ امیر جماعت رہے۔ تیسری مرتبہ ۲۰۰۰ء ؁ سے ۲۰۰۳ء ؁ تک امارت کے منصب پر فائز رہ کر ذمہ داریاں انجام دی اور مرکزی مجلس نمائندگان کے اجلاس میں موصوف کاچوتھی مرتبہ امارت کے منصب انتخاب عمل میں لایا گیا۔ خواجہ غلام محمد بٹ لٹی شاٹ سوپور کے رہنے والے ہیں ۔ موصوف سٹھ(۶۰) کی دہائی میں جماعت کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ۱۹۶۵ء ؁ میں سرکاری نوکری کو خیر باد کہہ کر موصوف ہمہ وقتی کارکن کی حیثیت سے جماعت میں شامل ہوگئے اور جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے شعبہ تعلیم میں بحیثیت ناظم تعلیمات تعینات ہوئے۔اجلاس میں اگلے تین سال کے لیے ۳۳؍رکنی مجلس شوریٰ کا انتخاب بھی عمل میں لایا گیا۔ مجلس نمائندگان کے اس اجلاس کے ساتھ ہی ۲؍اگست ۲۰۱۵ء ؁ سے شروع الیکشن پروسس اختتام پذیر ہوئی۔

Published in News

سرینگر//پولیس نے نوجوانوں کو شکوک و شبہات پر گرفتار کرنے کا جو تازہ سلسلہ شروع کررکھا ہے جس کے تحت خاص کر جنوبی کشمیر کا خطہ خصوصی نشانہ بنایا گیا ہے اس نے عوام کے اندر عدم تحفظ کی ایک اضطرابی کیفیت پیدا کی ہے۔ کھڈونی اور ارد گرد کے علاقوں سے شبانہ چھاپوں کے دوران کئی بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے راتوں رات تعذیب خانوں میں پہنچایا گیااور جب مقامی لوگوں نے اس ظالمانہ طرز عمل کے خلاف احتجاج کیا تو اُن کے خلاف طاقت کا بے جا استعمال کیا گیا اور کئی پر امن احتجاجیوں کو زخمی کردیا گیا۔ اسی طرح کاکا پورہ علاقہ کے کئی گرفتارشدہ نوجوانوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت بدنام زمانہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کرکے جموں کے دور دراز جیلوں کے اندر محبوس رکھا گیا۔ اس کے علاوہ اس خطے میں شبانہ چھاپوں اور محاصروں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں عوام کی معمول کی زندگی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے۔ ان کارروائیوں میں فوج اور پولیس ٹاسک فورس کے اہلکار کی ترش روی سے خوف کا سا سماں پیدا ہوگیا ہے اور جان و مال اور عزت کے حوالے سے لوگوں میں زبردست خدشات پائے جارہے ہیں۔ چند مفاد پرست اور عوام دشمن عماصر کی بے بنیاد اطلاعات پر لوگوں کو ہراساں کرکے‘ انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے اور اس طرح افسپا کے جنگلی قانون کا بہت ہی غلط استعمال ہورہا ہے۔اس غیر انسانی قانون کے تحت لاقانونیت ہی اس بدقسمت خطے کا قانون بن گیا ہے اور قانون کی حکمرانی کا کہیں کوئی نام و نشان ہی نہیں اور ملکی سلامتی کے تحفظ اور امن و قانون کے قیام کے نام پر فورسز اور پولیس ٹاسک فورس کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اور عدل و انصاف کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ ایک وردی پوش سرکاری اہلکار جب چاہے کسی بھی گھر میں داخل ہوکر‘ وہاں کے مکینوں کے ساتھ جو چاہے سلوک کرسکتا ہے اور اس ظلم سے متاثرہ لوگ کسی بھی عدالت یا ایونِ انصاف میں کوئی شکایت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے ہیں اور نہ ہی کہیں شنوائی ہونے کی اُمید ہی ہے۔
جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ فورسز اور پولیس کو دئے گئے ان غیر انسانی بے پناہ اختیارات کو ختم کرانے پر زور دیتے ہوئے‘ نوجوانوں کی گرفتاریوں اور عوام کو ہراساں کرنے کے تازہ چکر پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ یہاں افسپا سمیت تمام جمہوریت کش قوانین کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور فورسز اور پولیس اہلکاروں کو اپنی غلط حرکتوں پر پوری طرح جواب دہ بنایا جائے۔

Published in News

سرینگر//تحریک حریت جموں وکشمیر کی طرف سے یوم تاسیس منعقد کئے جانے پر جو بربریت پولیس کی طرف سے انجام دی گئی ‘ جماعت اسلامی اس کو غیر جمہوری اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔گزشتہ دن حیدرپورہ میں قائم تحریک حریت کے صدر دفتر پر جو تنظیم کا یوم تاسیس منانے کا پروگرام تھا‘ جس کو ریاستی پولیس نے اپنی بربریت کے ذریعے سبوتاژ کیا اور تنظیم کے بزرگ قائد اور جنرل سیکرٹری محمد اشرف صحرائی کو گرفتار کیا گیا‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں کی پویس فورس اپنے آقاؤں کے اشاروں پر آزادی پسندوں کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانا چاہتی ہے۔ حالانکہ الیکشن سے قبل یہاں کی ہند نواز پارٹیاں ڈھنڈورا پیٹتی نظر آرہی تھی کہ ’’گولی کاجواب بولی سے‘‘ مگر الیکشن کے بعد ان لوگوں کے چہرے بالکل بے نقاب ہوگئے ہیں۔اصل میں بھارت یہاں کے زرخرید لوگوں کے ذریعہ سے یہاں کی حقیقی آواز کو دبانا چاہتی ہے اور اپنا نظریہ یہاں کے مظلوم عوام پر پولیس فورس کے ذریعے سے ٹھونسنا چاہتی ہیں‘ جس کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔موجودہ دنیا میں یوم تاسیس منانا کوئی جرم نہیں ہے مگر ریاست جموں وکشمیر میں ان لوگوں نے الگ پیمانے قائم کئے ہوئے ہیں۔ پولیس کی طرف سے اس قسم کے عوامی جلسے کو سبوتاژ کرنے سے یہی واضح ہوتا ہے کہ یہاں کی حکومت جان بوجھ کر یہاں کی پرامن آواز کوبزور قوت دبانا چاہتی ہے اور جمہوریت کی اس دنیا میں یہاں کے آزادی پسند لیڈران کو مقید کرکے سلاخوں کے پیچھے رکھنے سے ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔جماعت اسلامی جموں وکشمیر ‘ پولیس کی اس بربریت کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور اس کارروائی کو غیر جمہوری اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔نیز انسانی حقوق کے جملہ اداروں پر زور دیتی ہے کہ وہ یہاں جاری ظلم و جبر کو رکوانے میں آگے آئیں اور پولیس کی بربریت کا سنجیدہ نوٹس لیں۔
ایڈوکیٹ زاہد علی
ترجمان
جماعت اسلامی جموں وکشمیر

Published in News

جماعت اسلامی ضلع کپواڑہ (الف) کا سالانہ اجتماع منعقد
مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں مضمر//قیم جماعت
کپواڑہ//جماعت اسلامی جموں وکشمیرضلع کپواڑہ (الف) کا یک روزہ سالانہ دعوتی اجتماع جامع مسجد کپواڑہ میں امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ضلع بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کرکے جماعت کے نصب العین کے ساتھ وابستگی کا برملا اظہار کیا۔ امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی نے اجتماع میں درس قرآن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے سورۃ آل عمران کی روشنی میں شرکاء اجتماع کو نصائح کیں۔امیر جماعت نے انسانی زندگی میں ہدایت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ جو زندگی اللہ کی طرف سے نعمت ہے اگر وہ ہدایت سے خالی رہی تو یہی زندگی رحمت کے بجائے زحمت بن جائے گی۔ اسی طرح اللہ نے مال، دولت اوراولاد عطا کئے ہیں اور اگر یہ ساری چیزیں ہدایت کی نعمت سے خالی رہیں اور اِن چیزوں کو اگر ہدایت کے تحت صرف نہیں کیا گیا تو یہی چیزیں انسان کے لیے وبال جان بن جائیں گی۔امیر جماعت نے تلاوت قرآن، تدبر قرآن، حفظ قرآن، اشاعت قرآن، ابلاغ قرآن اور نفاذ قرآن کو ہدایت حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا۔اقامت دین کے جامع تصور پر مدلل بات کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ التزام تقویٰ، منظم اجتماعیت اورانبیائی مشن کی آبیاری اقامت دین کے بنیاد ی اصول ہیں۔ اجتماع میں شامل لوگوں کو اللہ کی ناراضگی سے اجتناب کرنے کی تاکید کرتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ تحریک اسلامی سے وابستہ اشخاص کو چاہے کہ وہ نیک کاموں میں اپنی زندگی صرف کریں اور برائی سے ہرحال میں اجتناب کرنے پر زور دیتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ رسول عربیﷺ نے جہاں اُمت تک اللہ کی کتاب اور اپنی مبارک سنت کو ابلاغ کیا تووہیں اس کے بعد اُمت کو ایک نظریہ کے سایے میں مجتمع کیا۔ کارکنان تحریک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپ ہر حال میں اجتماعیت کے ساتھ چمٹے رہیں۔امیرجماعت نے کہا کہ جہاں ہم امر بالمعروف کا فریضہ انجام دیں وہیں اسلام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس سیاسی قوت ہو جس کے ذریعے سے اسلامی نظام کو نافذ کیا جاسکے۔اجتماع میں قیم جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے خطاب عام کا فریضہ انجام دیا۔موصوف نے کہا کہ دنیا میں جو بھی تحریکیں برپاہوئی ہیں، ایک پروگرام اور ایک نصب العین کو لیکر اُٹھی ہیں۔ان تنظیموں کامقصود ومطلوب تنظیم نہیں تھی بلکہ نصب العین اور پروگرام تھا۔ اسی طرح جماعت اسلامی جس چیز کی طرف لوگوں کو دعوت دیتی ہے وہ تنظیم نہیں بلکہ وہ نصب العین اور وہ پروگرام ہے جوقرآن کا بیان کردہ پروگرام ہے اور جس کی آبیاری رسول عربیﷺ نے اپنی پوری زندگی میں کی۔ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ ہمارے سماج نے دین اسلام کوکچھ رسوم تک محدودکیا ہے اور ہماری موجودہ زبوں حالی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ لہٰذا اگر ہمیں اپنی اجتماعیت کو بحال کرنا ہے تو ہمیں دین کو بحیثیت نظام حیات تسلیم کرنا ہوگا۔موصوف نے تحریک اسلامی کے مقصد وجود پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ کا نظام نافذ کیا جائے۔دشمنان دین کی چالوں پر بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا آج دنیا میں ہمارا دشمن ہماری مسجدوں کے لئے قالین پیش کررہا ہے، مسلمان روزہ داروں کے لیے افطاری کا اہتمام بھی کررہا ہے، فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ پروٹوکال فراہم کررہا ہے مگر جب اس سسٹم کو ہم اسلام کی طرف بحیثیت نظام دعوت دیتے ہیں تو یہی سسٹم بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر ہمارے خون سے ہولی کھیل رہا ہے۔مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ ۱۹۴۷ء میں ڈوگرہ حکمرانوں نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرتے ہوئے ہمیں غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیا جبکہ بعد میں ہم سے ہندوستان کی اعلیٰ قیادت نے لعل چوک میں آکر ہم سے وعدہ کیا کہ ریاست کے باشندوں سے اُن کی رائے جانی جائے گی۔ مگر تاایں دم ہمارے لاکھوں لوگوں کو شہید کیا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں ہمارے نوجوانوں کو زیر حراست لاپتہ کیا گیا۔ آج بھی جب دنیا میں اہل فکر لوگ اس مسئلہ کے تئیں دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہاں کے باشندوں کو راحت بہم پہنچانے کی سعی کرتے ہیں تو ہندوستان آگے آکر سب لوگوں کو رد کردیتا ہے جس کا مظاہرہ آج نیشنل سیکورٹی ایڈوائزرکی مجوزہ بات چیت میں دیکھا جاسکتا ہے۔جماعت اسلامی ہندوستان کی اعلیٰ قیادت تک یہ بات پہنچانا چاہتی ہے کہ اس انسانی مسئلہ کو جلد از جلد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعہ حل کیا جائے بصورت دیگر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جموں وکشمیر کے حقیقی نمائندوں کے ساتھ مل کرایساحل تلاش کیا جائے جو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہو۔مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے سے ہی آج سرحدوں پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔مخلوط حکومت کی مکروہ سازشوں پر بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ جب سے ریاست میں بی جے پی اور پی ڈی پی کی حکومت وجودمیں آئی ہے تب سے ایسی سازشوں کا جال بچھایا جارہا ہے جس سے یہاں کے مسلم تشخص کو خطرہ لاحق ہے۔حال ہی میں بی جے پی کی طرف سے سینک کالونی کے قیام کے منصوبہ پر بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ اس سازش کے ذریعے یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو ختم کرنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے جو کہ ایک قابل مذمت اقدام ہے۔اجتماع سے جن دیگر مقررین نے خطاب کیا اُن میں نائب امیر جماعت نذیر احمد رعنا، ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا طارق احمد مکی، معاون ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا غازی معین الاسلام ندوی، اسلامی جمعیت طلبہ کے نمائندہ عزیزی سحر مدثر،سابق قیم جماعت غلام قادر لون، عبدالحمید اندرابی، پیر غلام رسول شامل ہیں۔ اجتماع نماز عصر کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوا۔
ایڈوکیٹ زاہد علی

Published in News

جنوبی ایشیا کے اس عظیم خطے میں دیرپا امن کے قیام اور عوام کی خوشحالی کے لئے ناگزیر ہے کہ گذشتہ اٹسٹھ سال سے حل طلب متنازعہ مسئلہ کشمیر کو ریاست جموں وکشمیر آر پار کے عوام کی اُمنگوں اور خواہشات کے مطابق حتمی طور پر حل کیا جائے۔ اس ام المسائل کے ہوتے ہوئے دیگر مسائل کو زیر بحث لانا ایک لا حاصل عمل ہے کیونکہ باقی دیگر مسائل، اس بنیادی تنازعہ کے منصفانہ تصفیہ سے خود بخود حل ہوں گے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر اس بات کی متمنی ہے کہ ہندو پاک کی دونوں حکومتیں، جموں وکشمیر کے عوام کے حقیقی نمائندوں سے مل کر، مسئلہ کشمیر کا ایک ایسا حل تلاش کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں جو یہاں کے عوام کی خواہشات کا ترجمان ہو۔ دونوں حکومتوں کا اس سلسلے میں فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، حریت کانفرنس اور دیگر حریت نواز رہنماؤوں کے ساتھ گفتگو کے دروازے کھلے رکھنے چاہئیں۔ حکومت بھارت نے ہندو پاک کے خارجی امور کے سیکریٹریوں کی مجوزہ بات چیت جو دہلی میں منعقد ہونے کا پروگرام ہے، کے متعلق جناب سرتاج عزیز کی حریت کانفرنس کے زعماء کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے جو مؤقف اختیار کیا ہے، وہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔ اس طرح کا رویہ اختیار کرنے سے کبھی بھی مسائل اور تنازعات حل نہیں ہوتے ہیں بلکہ مزید پیچیدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ زعماء حریت جناب سرتاج عزیز کے سامنے مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنا مؤقف بیان کریں گے اور یہ عمل، اس خطے کے اس اہم تنازعہ کے منصفانہ حل کی طرف ایک اہم پیش قدمی ثابت ہوسکتی ہے جو دونوں ہمسایہ ممالک کے لئے مفید ہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر، ہندوپاک کی دونوں مملکتوں پر زور دیتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی اہمیت کے پیش نظر وہ اس تنازعہ کے منصفانہ حل کی خاطر، ضروری مؤثر اقدامات کا اعلان کریں اور اس مسئلے کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے کو اولین ترجیح دیں۔ نیز حکومت بھارت پر بھی زور دیا جاتا ہے کہ پاکستانی خارجہ سیکریٹری نے دہلی میں حریت لیڈران کے ساتھ بات چیت کا جو پروگرام طے کیا ہے، اُس کو رکوانے کے بجائے خوشگوار ماحول میں ہونے کی برضا ورغبت اجازت دے ۔ حریت لیڈر شبیر احمد شاہ اور اُن کے دیگر ساتھیوں کی دہلی ائرپورٹ پر گرفتاری ایک معاندانہ اور مذموم کارروائی ہے جو کسی بھی حال میں کوئی جواز نہیں رکھتی ہے۔ مسلم دینی محاذ کے ایک لیڈر فاروق احمد کاکا پوری کی گرفتاری کی بھی زبردست مذمت کی جاتی ہے۔

Published in News

۲۱؍اگست
مسجد الھدیٰ باراں پتھر میں امیر جماعت اسلامی کا خطاب
سرینگر//امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے آج مسجد الھدیٰ باراں پتھر بتہ مالو سرینگر میں لوگوں کے ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسان اور گناہوں کے درمیان حیاء ہی ایک واحد پردہ ہوتا ہے، حیا اُٹھ گیا تو سمجھ لینا چاہیے کہ ایمان بھی سلامت نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شرم و حیا سراسر بھلائی ہے اور مسلم سماج کی پہچان اُن کی حیا اور ایمانداری ہوتی ہے۔ اگر دونوں چیزیں سماج میں غائب ہوں گی تو پھر غیر مسلم اور مسلم سماج میں کوئی خاص فرق نہیں رہتا ہے۔ محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ ایمان مسلمان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہے اور اگر کسی وجہ سے اُس کا ایمان ہی خطرے میں پڑے تو یہ اِس کے لیے نفع بخش سودا نہیں ہے۔ امیر جماعت نے کہا کہ اس وقت ہمارا سماج شرم و حیاء سے عاری بن چکا ہے، ہماری مائیں ، بہنیں اور بیٹیاں غیر اسلامی تہذیب کا شکار ہیں۔ عریانیت اور فحاشیت کو یہاں عروج دیا جارہا ہے۔ بے حیائی، بدی اور بداخلاقی کا ماحول سماج کے اجتماعی ضمیر کو مردہ بناتا جارہا ہے اور اس کے نتیجے میں ہماری ایمانی غیرت ختم ہوچکی ہے۔ امیر جماعت نے عوام الناس سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں سے اصلاح کا کام شروع کریں۔ بے حیائی اور بدی کے کلچر کی جگہ شرم و حیاداری کے ماحول کو پروان چڑھائیں اور اپنے ایمان اور تہذیب کی حفاظت کرکے مسلم شناخت کو قائم و دائم رکھیں۔

Published in News

Srinagar: On finding a number of the copies of holy Quran in a heap of filth alongwith other waste papers and things outside a factory of recycling such used items in Bari-Brahmana Jammu, the thousands of the local Muslims gathered there to protest this desecration of the holy book and staged a peaceful sit in there. The whole Jammu area became tense after this shameful act. It is said that some book seller from the valley sent these copies of the holy book which were destroyed during September 2014 floods alongwith other waste material.

 

Jama’at-e-Islami J&K strongly condemns this sacrilegous act and expresses its deep anger and sorrow over it. The district head of Jama’at Jammu Abdul Karim Nadvi alongwith other local dignitaries visited the place of incident and expressed total solidarity with the agitating Muslims and demanded a stern and examplary punishment to those elements involved in this contemptous act hurting the sentiments of crores of Muslims throughout the world.

Published in News

شہید ہوئے نوجوانوں کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی گئی
سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا ایک اعلیٰ سطحی وفد ناظم شعبہ سیاسیات ایڈوکیٹ زاہد علی کی سربراہی میں پلوامہ گیا جہاں انہوں نے حال میں شہید ہوئے دو عسکریت پسندوں شوکت احمد لون ساکن للہار،گلزار احمد ساکن تلنگام اور ایک طالب علم بلال احمد بٹ ساکن لارکی پورہ پدگام پورہ کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی۔ایڈوکیٹ زاہد علی نے تینوں جگہوں پر تعزیتی مجالس سے خطاب کرتے ہوئے موت و حیات کے فلسفے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زندگی کا ایک نہ ایک دن اختتام ہونا اٹل حقیقت ہے اور کامیاب و کامران وہی ہوا جس نے اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں زندگی گزاری ۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کی موت افضل ترین موت ہے اور جن نوجوانوں نے اپنی زندگی اسلام کی سربلندی کے لیے قربان کی اُن کا روز محشر میں اعلیٰ وارفع مقام ہوگا۔ایڈوکیٹ زاہد علی نے اس موقع پر بی ایس ایف اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی بلاجواز فائرنگ میں ایک معصوم نوجوان بلال احمد بٹ کو جان بحق کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو بدترین ریاستی دہشت گردی سے تعبیر کیا۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر ترنج شوپیان کی جامع مسجد میں ہوئے پُر اسرار بم دھماکے میں زخمی ہونے والے نمازیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے اور اس سانحہ کو گہری سازش سے تعبیر کرتی ہے۔ 

Published in News

۱۳؍اگست
سہ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا گیا، اُمت کے مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا
سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے موجودہ انتخابی کالج، مجلس نمائندگان کا ایک اہم یک روزہ اجلاس مرکز جماعت پر زیر صدارت امیر جماعت محمد عبداللہ وانی منعقد ہوا جس میں جماعت کی گزشتہ سہ سالہ کارکردگی کا بھرپور جائزہ لیا گیا اوراُمت مسلمہ کو درپیش مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا علی الخصوص ریاست جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانے کے لیے جو نت نئے حربے اپنائے جارہے ہیں ان پر بھی سیر حاصل بحث و مباحثہ ہوا۔ اس کے علاوہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جماعت کے دیرینہ مؤقف کا بھی اعادہ کرتے ہوئے، اس حقیقت کو اُجاگر کیا گیا کہ جب تک یہ اہم انسانی مسئلہ یہاں کے عوام کی خواہشات اور امنگوں کے مطابق حل نہیں کیا جاتا، ہند و پاک کیا، جنوبی ایشیا کے اس عظیم خطے میں دیر پا امن و امان کا قیام ناممکن ہے۔ اسی مسئلے نے اس خطے کے دواہم ہمسایہ مملکتوں کو اس طرح اُلجھا دیا ہے کہ ان کے بجٹ کا بیشتر حصہ ترقیاتی کاموں اور عوام کی خوشحالی کی خاطر منصوبوں پر خرچ ہونے کے بجائے دفاعی اخراجات کی نذر ہوجاتا ہے اور اس طرح عوامی مسائل میں کمی ہوجانے کے بجائے اضافہ ہی ہوجاتا ہے۔ بھارت میں اس وقت بھی کروڑوں لوگ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں او روہ دو وقت کی روٹی او رپناہ کے لیے چھت کی بابت ترستے ہیں لیکن غیر ضروری دفاعی اخراجات کی وجہ سے اُن کے مسائل کی طرف التفات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کا یہ نمائندہ اجتماع ہندو وپاک کی دو برادر ممالک پر زور دیتا ہے کہ ریاستی عوام کے حقیقی نمائندوں سے مل کر ، وہ اقوام متحدہ کی وساطت سے کیے گئے وعدوں کے مطابق یہاں کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا حتمی فیصلہ لینے کا موقعہ فراہم کریں تاکہ اس خطے میں امن و آشتی اور خوشحالی کا دور دورہ ہو۔ نیز یہاں کے عوام کو اپنا یہ بنیادی حق حاصل کرنے کی خاطر، جن بے پناہ تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑااور پڑ رہا ہے او رجان و مال کی جو قربانیاں انہیں دینی پڑی اور پڑ رہی ہیں یہ تاریخ عالم کا ایک انمٹ حصہ ہے اور قوموں کی تاریخ میں اس کی بہت ہی کم مثالیں ملتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قوم پر یہ بے پناہ مظالم اس لیے ڈھائے گئے او رڈھائے جارہے ہیں تاکہ وہ اپنے بنیادی حق، حق خودارادیت سے دستبردار ہو جائے لیکن دنیا نے دیکھ لیا کہ اس قوم کو اپنے اس بنیادی حق سے دستبردار ہونے کے لیے کوئی حربہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔جماعت اسلامی کا یہ نمائندہ اجتماع اقوام عالم پر زور دیتا ہے کہ وہ یہاں کے مجبور اور مظلوم عوام کو اُن کا بنیادی حق، حق خودارادیت ، دلوانے میں مؤثر رول ادا کریں خاص کر دنیائے اسلام کی یہ منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو یہاں کے عوام کی خواہشات کے مطا بق حل کروانے میں بھر پور اور نمایاں حصہ ادا کرے۔
جماعت اسلامی کا یہ نمائندہ اجتماع مختلف جیلوں اور زنداں خانوں میں محبوسین اور سیاسی زعماء کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جو یہاں کے عوام کو ان کا بنیادی سیاسی حق، حق خودارادیت دلوانے کی خاطر آواز بلند کرنے کی پاداش میں شخصی آزادی کے بنیادی حق سے محروم کیے گئے ہیں او ر دورانِ حراست اُن پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے۔ یہ نمائندہ اجتماع جملہ سیاسی نظر بندوں کی غیر مشروط رہائی اور اُن کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات کی فوری واپسی کا زور دار مطالبہ کرتا ہے۔ نیز یہاں کی انتظامیہ اور پولیس پر زوردیتا ہے کہ وادی میں نوجوانوں کی بلا دریغ گرفتاری اور محاصروں کا سلسلہ فوری طور پر بند کریں۔یہ نمائندہ اجتماع ، ریاست جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹانے کے درپے فرقہ پرست قوتوں کی تمام سازشوں پر اپنی گہری تشویش اورناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے، ملت اسلامیہ جموں و کشمیر کے اندر اس حوالے سے ایک بیداری مہم چلانے کی ضرورت کو اُجاگر کرتا ہے اور یہاں کی تمام دینی اور حریت نواز تنظیموں اور اداروں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی اپیل کرتا ہے تاکہ منظم عوامی جدوجہد کے ذریعے ان سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاسکے۔ ان سازشوں میں۱۹۴۷ء میں مغربی پاکستان سے آئے شرنارتھیوں کو مستقل طور بسانے، سبکدوش ہوئے بھارتی فوجیوں کو یہاں بسانے اور بھارتی آئین کی دفعہ۳۷۰؍ کو ہٹانے کے مکروہ منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صوبہ جموں میں غیر ریاستی باشندوں کو وہاں کی سرکاری انتظامیہ کی درپردہ حمایت سے مستقل سکونت کی سند یں فراہم کرنا بھی ان سازشوں میں شامل ہے۔
جماعت اسلامی کا یہ نمائندہ اجتماع، اتحاد اُمت کو وقت کی اہم ترین ضرورت اور کامیابی کی ضمانت قرار دیتا ہے لیکن موجودہ باطل قوتیں، اتحاد ملت میں رخنہ ڈالنے کی خاطر، مختلف شیطانی حربے استعمال کرتی ہیں تاکہ یہ ملت انتشار کا شکار ہوکر، باہمی تضادات میں الجھ کر بے وزن ہوجائے۔ جماعت اسلامی کا یہ نمائندہ اجتماع مسلمانانِ عالم خصوصاً مسلمانانِ ریاست سے مؤدبانہ اپیل کرتا ہے کہ تمام فروعی اور ضمنی مسائل کو نظر انداز کرتے ہوئے، ’’واعتصموا بحبل اللہ‘‘ کے قرآنی اصول کے مطابق یک جان دو قالب ہوجائیں تاکہ اس اُمت کی عظمت رفتہ بحال ہوجائے اور اس حوالے سے باطل کی تمام انتشاری سازشوں کو اتحاد ملت کے جذبے سے ناکام و نامراد بنایا جاسکے۔ اس سلسلہ میں ملت کے علماء کرام اور دانشور حضرات کو اُن کی منصبی ذمہ داریاں یاد لاتے ہوئے، اُن سے مؤدبانہ استدعا کی گئی کہ وہ اس امت کو دین کے بنیادی اصولوں پر مجتمع کرنے کی کوششوں میں سرعت لائیں۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کے اندر دین بیزاری کو فروغ دینے والوں پر کڑی نظر رکھ کر عامۃ المسلمین کو ان کی مکروہ چالوں سے باخبر رکھیں۔اجلاس میں کل پدگام پورہ پلوامہ میں فورس کی جانب سے بلا اشتعال گولیاں چلاکر ایک نوجوان بلال احمد بٹ کو شہید کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے نیز کل کرناہ سے آنے والی ایک سومو کو حادثے پیش آنے کے نتیجے میں۱۱؍لوگوں کی موت پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

Published in News
Page 1 of 2

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker