Top Panel
You are here: HomeNewsItems filtered by date: June 2015
Items filtered by date: June 2015 - Islamic Media J & K

٤١/جون

عمر عبداللہ اینڈ کمپنی اپنے ماضی میں جھانک کر دیکھیں ، تاریخ اس جماعت کے سیاہ کارناموں سے بھری پڑی ہوئی ہے

سرینگرنیشنل کانفرس کی تاریخ کشمیر دشمن سازشوں اور اقدامات سے بھری پڑی ہوئی ہے اور اب اس جماعت سے وابستہ لوگ اپنے سیاہ کارناموں پر پردہ پوشی کرنے کے لیے تحریک اسلامی جیسی اصولی جماعت کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے عوام کی نظروں میں اپنا مذاق بنا رہے ہیں ۔ اس جماعت کے ایک لیڈر نے یہ بھونڈا الزام عائد کیا کہ تحریک اسلامی نے بقول اُن کے پی ڈی پی کو برسراقتدار لانے میں کلیدی رول ادا کیا اور نیشنل کانفرنس شکست سے دوچار نہیں ہوجاتی اگر جماعت نے پی ڈی پی کی مدد نہ کی ہوتی۔ اس طرح کے الزامات عائد کرنے سے قبل نیشنل کانفرنس سے وابستہ لوگوں کو اپنے ماضی پر نظر ڈالنی چاہیے۔نیشنل کانفرنس ہمیشہ سے اقتدار کی بھوکی رہی اور کرسی پر براجمان ہونے کے لیے اخلاقیات کے تمام حدود پار کرنے سے بھی اس جماعت نے کبھی گریز نہیں کیا۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے محض اقتدار کے خاطرحق خود ارادیت کی٢٢/سالہ مقدس جدوجہد کو ’’سیاسی آورہ گردی ‘‘ قرار دے کر کشمیری قوم کودلّی کی غلامی میں دے دیا۔ ٧٨٩١ئ؁ کے انتخابات میں راجو فاروق ایکارڈ کرکے دلّی کی مدد سے ریکارڈ توڑ دھاندلیاں کرکے مسلم متحدہ محاذ کے جیتے ہوئے اُمیدواروں کو شکست خوردہ قرار دے کر اقتدار پر بڑی ہی بے شرمی کے ساتھ قابض ہوئی ہے۔ ٩٨٩١ئ؁ میں جب حالات نے پلٹا کھایا تو اس جماعت کے تمام لیڈر ان نے اپنی جان بچانے کے خاطرریاست سے راہِ فرار اختیارکرلی اور جن لوگوں کی نمائندگی کا انہیں دعویٰ تھا اُن کو بے یار و مددگار ہندوستانی فوجیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ نوے کی دہائی کے وسط تک جب کشمیری قوم نے اپنی بیش بہا قربانیوں کے ذریعے سے دلّی کے تسلط کو بڑی حد تک کمزور کردیا تھا ، جب تمام تر لالچوں کے باوجود بھی سیاسی پارٹیوں کو یہاں اُمیدوار میسر نہیں ہورہے تھے، جب صفر فیصدی ووٹ پڑتے تھے تو یہ نیشنل کانفرنس ہی تھی جس کے لوگوں نے باہر سے آکر یہاں ٦٩٩١ئ؁ کے انتخابات میں حصہ لیا اور محض چار فیصد ووٹوں پر اقتدار حاصل کرکے بھارت کے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کو پھر سے سہارا دیا۔فورسز ایجنسیوں کی جانب سے منحرف بندوق برداروں پر مشتمل بدنام زمانہ ’’ اخوان‘‘ کی سرپرستی کس نے کی؟ اس بات سے بھی مسلمانانِ کشمیر بخوبی واقف ہیں ۔ ’’اخوانیوں ‘‘ نے قتل و غارت گری کا جوتانڈو ناچ یہاں کھیلا اُسے چنگیزیت اور بربریت بھی چیخ اُٹھتی ہے اور یہ نیشنل کانفرنس ہی ہے جس نے جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خاطر ان دہشت گرد منحرف بندوق برداروں کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی۔ جماعت سے وابستہ سینکڑوں لیڈران اور کارکنان جن کی عوامی مقبولیت اور اثر و رسوخ سے نیشنل کانفرنس خوفزدہ تھی کا قتل عام کروایا گیا اور اس کے لیے منظم اندز سے اس جماعت نے خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ سازشیں کرکے جماعتی افراد کا تہ تیغ کر وایا ۔ جماعت اور آزادی پسند لوگوں کو شہادت کے منصب پر فائز کیے جانے کے صلے میں اِسی جماعت نے کوکا پرے اور جاوید شاہ جیسے بدنام زمانہ دہشت گرد بندوق برداروں کو سرکاری ایوانوں تک پہنچایا۔عمر عبداللہ اینڈ کمپنی سے قوم کشمیر یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ درجنوں افراد کے قاتلوں کو کس نے پدم شری ایوارڈ سے نوازنے کی سفارش کی تھی۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نیشنل کانفرنس اقتدار کی لالچ میں کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ اس جماعت سے وابستہ لوگوں کو اپنے دور اقتدار کا جائزہ لینا چاہیے اُس میں ایسا کیا ہے جس کے لیے وہ اپنے ساتھ ہورہی ناانصافی کا رونا رو رہے ہیں ۔ رشوت، کرپشن، اقربا پروری تو عام بات ہے کشمیریوں کی نسل کشی کا اس سے بھیانک ثبوت اور کیا ہوگا کہ ٠١٠٢ئ؁ کی پرامن عوامی تحریک پر طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے ٨٢١/معصوم نوجوانوں کے قتل عام کے لیے یہ جماعت براہ راست ذمہ دار ہے۔شہید محمد افضل گورو اور شوپیان کی آسیہ اور نیلو فر کو کیسے یہ قوم بھول سکتی ہے۔ گزشتہ سال ستمبر کے خوفناک سیلاب میں عمر عبداللہ کی پوری ٹیم اپنی گزشتہ روایات کے مطابق ریاست سے بھاگ کھڑی ہوئی اور عام لوگوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔یہ سب ایسے کارنامے ہیں جس کی سزا اس جماعت کو ملی اور ہمیشہ ملتی رہے گی کیونکہ یہ الٰہی قانون ہے کہ ظلم و جبر کی داستان رقم کرنے والے لوگوں کو زیادہ دیر تک سکھ اور چین نصیب نہیں رہتا ۔ہزار کوششوں کے باوجود حق کی آبیاری کرنے والی جماعت اسلامی کا قلع قمع کرنے کا خواب ادھورا رہتے دیکھ کر نیشنلی لیڈران بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں ، یہ لوگ جماعت اسلامی کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت سے ذہنی تناؤ کا شکار ہوچکے ہیں اس لیے بے تُکی باتیں کرکے اپنی ذہنی پسماندگی کا ثبو ت دے رہے ہیں ۔جماعت دشمنوں پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اگر جماعت اسلامی یا آزادی پسند لوگ درپردہ طور پر الیکشن میں حصہ لیتے تو آج جتنے بھی لوگ اسمبلی میں عوامی نمائندگی کا دعویٰ کررہے ہیں اُن کا کہیں کوئی اتہ پتہ بھی نہیں ہوتا۔جماعت اسلامی نظام چلانے والے ہاتھوں کو نہیں بلکہ نظام کو ہی بدلنے کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔ اللہ کی زمین پر مخلوق کی حکمرانی کے بجائے اللہ کی حکمرانی قائم کرنا ہمارا نصب العین ہے ۔

\tجماعت اسلامی جموں وکشمیر سمجھتی ہے کہ نیشنل کا نفرنس ، پی ڈی پی اور دیگر ہند نواز سیاسی جماعتیں ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں اور ان تمام جماعتوں کا واحد مقصد کشمیریوں کی تحریک حق خود ارادیت پر شب خون مارکر دلّی کے تسلط کو دوام بخشنا ہے۔یہ جماعتیں روپ بدل بدل کرکشمیری عوام کے لیے مسیحا بننے کی ڈرامہ بازی کررہی ہیں اور کشمیری عوام کو ہند نواز جماعتوں کی ان شاطرانہ چال بازیوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ جماعت یہ بھی واضح کرنا چاہتی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کرۂ ارض کا ایک ایسا متنازعہ خطہ ہے کہ جہاں کے لوگوں نے اپنی آزادی کے لیے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں اور جماعت روز اول سے ہی اس مسئلہ کو حل کرانے کے لیے نہ صرف جدوجہد کررہی ہے بلکہ سب سے زیادہ قربانیاں پیش کرنے والی جماعت بھی ہے۔بہتان بازی اور زبان درازی کرنے والے مختلف لبادے اُوڑھے تمام لوگوں سے جماعت کا یہی مشورہ ہے کہ بے جا ہرزہ سرائی کے ذریعے سے اپنا مذاق نہ بنائیں اور اپنے اوقات میں رہتے ہوئے حقیقت حال کا فہم و ادراک حاصل کریں ۔

Published in News

٣١/جون

ایسے واقعات سے سماج میں بداعتمادی کی فضا قائم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں

 سرینگربومئی سوپور میں ایک اور نوجوان خورشید احمد بٹ والد غلام نبی بٹ جو کہ بومئی ٹرینڈرس فیڈریشن کے صدر تھے کو نامعلوم بندوق برداروں نے گولی مار کر جابحق کردیا ۔ گزشتہ دنوں ایسے ہی ایک واقعے میں سوپور میں محمد الطاف شیخ کو بھی مسلح بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر ان واقعات کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے محسوس کرتی ہے کہ معصوم نوجوانوں کا پراسرار طرز پر قتل عام کرواکے دراصل کشمیری سماج میں بداعتمادی کی فضا قائم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے بیان جس میں انہوں نے ’’دہشت گردی کا مقابلہ دہشت گردی‘‘ سے کرنے کی بات کہی، کے تناطر میں جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وادی میں اسرائیلی طرز پر ٹارگٹ کلنگ کا کھیل کھیلا جانے کا امکان ہے ۔سوپور اور بومئی کے واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے کشمیر دشمن عناصر ایک تیر سے دو شکار کرنے کا کار بد انجام دے رہے ہیں ۔ ایک تحریک پسند لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹاکر تحریک حق خود ارادیت کو کمزور کرنا اور دوسرا تحریک نواز لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے معاشرے میں بداعتمادی کی فضا قائم کرناہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر معصوم شہریوں کے قتل ناحق کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کشمیری عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ان نازک گھڑیوں میں کافی حساسیت اور ہوشیاری کا مظاہرہ کریں ۔ جماعت اسلامی کی جملہ قیادت اور رفقا خورشید احمد بٹ کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ 

Published in News

٠١ جون٥١٠٢ئ؁

شہید شیخ الطاف الرحمان کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا، شعبہ سیاسیات کی سربراہی میں ایک وفد نے دورہ کیا

سرینگر جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا ایک مرکزی وفد جس میں ناظم شعبہ سیاسیات ایڈوکیٹ زاہد علی، معاون ناظم شعبہ نشر و اشاعت پیر زادہ شبیر احمداور شعبہ تالیف و تصنیف کے ذمہ دار غازی امتیاز احمد نے آج شہید شیخ الطاف الرحمان کے گھر گیا اور وہاں اس تعزیتی نشست میں شرکت کی جس کا اہتمام جماعت اسلامی ضلع بارہمولہ نے کیا تھا اور سینکڑوں لوگوں نے اس میں شرکت کی۔ جملہ مقررین نے شہید الطاف کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی شہادت کو بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی قرار دیا تاکہ لوگوں کو خوفزدہ کرکے یہاں جاری تحریک برائے حصول حق خود ارادیت کو کمزور کیا جائے اور آر ایس ایس کو یہاں اپنا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ایک مثبت ماحول فراہم ہوجائے۔ بھارتی وزیر دفاع مسٹر منوہر پاریکر کے اُس حالیہ بیان جس میں ’’دہشت گردی کا مقابلہ دہشت گردی سے کرنے‘‘ کی بات کہی گئی سے واضح ہوتا ہے کہ الطاف کو اسی منصوبے کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ زاہد علی نے شہید موصوف کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والا ایک نڈر اور بے باک مسلمان قرار دیا جس نے اپنے اعلیٰ کردار سے عوامی الناس کے دلوں میں ایک خاص مقام حاصل کرلیا اور محکمہ صحت میں بڑی دہی کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ خدمات کی انجام دہی سے اُس نے عوام الناس کے دلوں میں گھر کر لیا ہے اور غریب بیماروں اور اُن کے تیمار داروں کا خاص خیال رکھنا اُس کا شیوہ تھا۔ اُن کی شہادت نے مقامی لوگوں کو غمزدہ کرکے رکھ دیا ۔ اس موقعہ پر موصوف کے والد محمد یوسف نے جس ہمت، عزم اور جرأت کا مظاہرہ کیا وہ قابل تقلید ہے۔ مجلس کے آخر پر شہید موصوف کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی۔ تعزیتی مجلس میں تحریک حریت کے جنرل سیکریٹری محمد اشرف صحرائی کے علاوہ لبریشن فرنٹ کے نمائندے نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔یا د رہے امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے کل شہید کے نماز جنازہ کے موقعے پر اُنہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا اور نماز جنازہ کی امامت بھی کی۔

Published in News

٧ جون٥١٠٢ئ؁

اسلام سیاسی قوت کا تقاضا کرتا ہے امیر جماعت

مسئلہ کشمیر کے بارے میں جماعت کا مؤقف اٹل، انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تشویش

جماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع بارہمولہ(الف) کے سالانہ اجتماع میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

سرینگرجماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع بارہمولہ(الف) کا سالانہ اجتماع آج سپورٹس گروانڈکنزر ٹنگ مرگ میں امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی کی صدارت میں منعقد ہوا۔اجتماع میں ضلع بھر سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ درس قرآن کی روشنی میں قیام خلافت کی جدوجہد کو واجب قرار دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ سیاسی قوت اسلامی نظام کے قیام کے لیے لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامت دین کی جدوجہد کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ مسلمان ہر آن خدا سے ڈرنے والی قوم ہو۔دین قائم ہونے کے لیے دوسرا اصول مضبوط و منظم اجتماعیت اور ملی اتحاد انتہائی لازم ہے۔ امیر جماعت نے کہا کہ یہ المیہ ہے کہ اگر چہ ارکان اسلام توحید، نماز ، روزہ ، حج اور زکواۃ سب اجتماعیت کی دعوت دیتے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہے۔ مسلمان نسل، قومیت ، وطنیت اور سماجی رتبے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ دست گریباں ہیں ۔ محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ اُمت مسلمہ کے لیے رشتہ اتحاد اور وحدت کی بنیاد خالص قرآن مجید بن سکتا ہے۔ قرآن مجید کو تمام مسائل کا حل قرار دیتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ قرآن ہماری زندگی کے اجتماعی و انفرادی مسائل میں ضابطہ حیات ہونا چاہیے ۔ اقامت دین کے لیے لازمی ہے کہ مسلمان لوگوں کو خیر کی دعوت دیں ، نیکیوں پر عوام الناس کو ابھاریں اور پھر سیاسی قوت حاصل ہوجانے کی صورت میں مسلمانوں پر لازمی ہے کہ وہ بدیوں کو روکیں اور بھلائیوں کو طاقت سے ختم کریں ۔ اُمت مسلمہ کو سیاسی طاقت ایک ہی صورت میں حاصل ہوسکے گی جب اُمت مسلمہ بحیثیت مجموعی قیام خلافت کے لیے منظم کوششیں کرے گی۔ امیر جماعت نے کہا کہ امر بالمعروف او رنہی عن المنکر لازم و ملزوم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے لیے نظام ضروری ہے اور نظام کے قیام کے لیے ہی جماعت اسلامی گزشتہ چھ دہائیوں سے جدوجہد کررہی ہے۔ اجتماع میں اپنے خطاب عام میں قیم جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہامسئلہ کشمیر عالمی سطح کے مسائل میں ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس مسئلے سے براہ راست کشمیری قوم متاثر ہو رہی ہے۔ قربانیاں اس قوم نے دی ہیں اور دے رہی ہے۔ موصوف نے کہا کہ مسائل کے حل کے حوالے سے دنیا دوہرا معیار اپنا رہی ہے۔ جنوبی سوڈان اور ایسٹ تیمور میں مسئلہ عیسائیوں کا تھا ، رائے شماری کرائی گئی۔ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ مسلمانوں کا ہے اقوام متحدہ میں قرار دادیں ہونے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا جاتا ہے۔ قیم جماعت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جماعت اسلامی کا مؤقف اٹل اور واضح ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق حل کیا جانا چاہیے۔قیم جماعت نے جموں میں غریب مسلمانوں کو اپنی زمینوں سے بے دخل کیے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرست منظم سازش کے تحت جموں کو مسلمانوں سے خالی کرانے کی کوششیں کررہے ہیں اور اسی کوشش کی ایک کڑی یہ ہے کہ جنگلاتی زمین کے نام پر مسلمان علاقوں میں لوگوں کو اپنی گھر اور زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ یہ جموں ہی نہیں بلکہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ ابھی تک ہندوستان میں تیس ہزار سے زائد مسلم کش فسادات ہوئے ہیں اور آج بھی مختلف حیلوں او ربہانوں کی آڑ میں مسلمانوں کو تنگ طلب کیا جارہا ہے۔ جس کی سینکڑوں مثالیں پیش جاسکتی ہیں ۔ جموں میں ایک سکھ نوجوان کی ہلاکت کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ پرامن جلوس پر گولیاں چلانا یہاں کی روایت بن چکی ہے اور جماعت اس کی مذمت کرتی ہے۔ جموں واقعے نے حکومت کے دوہرے معیار کو بھی بے نقاب کردیا ہے۔ سکھ نوجوان کی ہلاکت کے بعد ذمہ دار اہلکاروں اور افراد کے خلاف فوری طور کارروائی عمل میں لائی گئی جبکہ وادی میں نارہ بل کے سہیل احمد صوفی اور ترال کے مظفر احمد وانی کی شہادت اور اس جیسے درجنوں واقعات میں ملوث وردی پوش دندناتے پھرتے ہیں اور اُن کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور یہ جمہوریت کے دعوؤں کی پول کھول دیتی ہے۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے حال ہی میں بی جے پی منسٹر کے اُس بیان جس میں انہوں نے کہا کہ امرناتھ یاترا سال بھر جاری رکھی جاسکتی ہے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ منسٹر کا یہ بیان خلوص پر مبنی نہیں بلکہ مذہبی منافرت کو ہوا دینے کے لیے سامنے آیا ہے۔ موصوف نے کہا کہ امرناتھ یاترا سے یہاں ماحولیات کا تواز ن بگڑ چکا ہے اور گزشتہ سال کے سیلا ب کی ایک وجہ ماہرین امرناتھ یاتراکو طول دینا بھی سمجھتے ہیں ۔ قیم جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی ان فرقہ پرست عناصر کی ریشہ دوانیوں کی مذمت کرتی ہے اور کشمیری عوام کو سازشوں سے خبردار رہنے کی تلقین کرتی ہے۔ برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ مسلمانوں کو بودھ بھکشو تہ تیغ کررہے ہیں ، اُن کے بچوں کو زندہ جلایا جارہا ہے ، لاکھوں مسلمانوں بے وطن ہوکر در بدر گھوم رہے ہیں اور عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ یواین او اور سیکورٹی کونسل کی خاموشی معنی خیز ہے اور برمی مسلمانوں کے تئیں غفلت شعاری برتی جارہی ہے۔ قیم جماعت نے کہا کہ اگر چہ ترکی اور پاکستان کے اقدامات سے اُمیدیں پیدا ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود اگر بودھوں کوبرمی مسلمانوں کے ساتھ ظلم و جبر کا یہ سلسلہ جاری رکھنے دیا گیا تو مستقبل قریب میں دنیا کو بودھ دہشت گردی سے سنگین خطرہ لاحق ہوگا۔قیم جماعت نے کہا کہ ایک منظم سازش کے تحت ریاست جموں وکشمیر میں منشیات اور بے حیائی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ سیاحت کے فروغ کے نام پربے حیائی اور فحاشیت کو سرکاری سطح پر فروغ دیا جارہا ہے اس کی مثال حکومت وقت کے ذریعے سے فلمی دنیا کے لوگوں کو وادی آنے کی دعوت دینا ہے۔ اجتماع سے جن دوسرے مقررین نے خطاب کیا اُن میں نائب امیر جماعت نذیر احمد رعنا، ناظم شعبہ دعوت و تربیت طارق احمد مکی، معاون ناظم شعبہ دعوت و تربیت غازی معین الاسلام ندوی، امیر ضلع بارہمولہ(ب) عبدالمجید، معروف دانشور حسن زینہ گیری، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ عمر سلطان، قیم ضلع بڈگام خاکی محمد فاروق کے علاوہ پیر غیاث الدین شامل ہیں ۔

Published in News

Srinagar: Expressing its satisfaction over the clarification given by the United Jihad Council (UJC) about the “Lashkar-i-Islam” organization, All Parties Hurriyat Conference Tuesday said that, “this has now proven that the said terror organization is the brain child of the Indian secret agencies on the pattern of “Al-Faran” group and its only purpose is to harm and defame the freedom struggle and economics of Kashmir and to disturb the social setup of the state.

Hurriyat conference revealed that they have got important evidence in this regard which authenticates the claims of the Jihad Council and it proves that the “Lashkar-i-Islam” is the creation of the Indian secret agencies.

 

In Tuesday’s press release, Hurriyat said, “that on 31 May Sunday, Hurriyat Chairman Syed Ali Geelani had appealed the UJC to find out the truth behind the lesser known organization “Lashkar-i-Islam” who are killing and threatening the people related to the telecommunication system in the Valley. Jihad Council gave detailed explanation in this regard and during this period Hurriyat conference also got evidence of this process that the attacking and threatening of the communication related people is actually the handiwork of the Indian secret agencies and a plot in this regard was formulated some months back according to which an operation will be held in the guise of Mujahideens and this operation was also given a particular name. And according to these evidences, it looks that this operation is directly looked over by the Indian home ministry and the state administration and even the state police has been deliberately left ignorant in this regard like in the case of Al-Faran group creation and how this organization at first kidnapped and then killed the five innocent European tourists and the state administration and the police were totally unaware about it.”

 

According to the statement, where today’s operation is meant to damage the economical and social setup of the Kashmir, according to the reports received by the Huriyat Conference, the pro-freedom leaders can be the target of this operation. Hurriyat cautioned that if any kind of untoward happened with any pro-freedom leader, it will have serious consequences and all its responsibility will be on the Indian home ministry. Hurriyat said that this operation is also an attempt to cut-off and isolate the Kashmir from the outer world and India want to keep the world community into dark about the human rights violations committed by its forces in Jammu & Kashmir.

 

Hurriyat conference further said that emergence of the “Lashkar-i-Islam” immediately after the statement of Indian home minister Mr. Manohar Parrikar that “the terrorism will be eliminated by the terrorism and target killings” has something hidden in it and it also proves the apprehensions and the doubts of the people right that the Ikhwani culture will again to be started in Jammu & Kashmir but this time in any other form.

 

According to the statement, the person who is said to be the architect of the “Ikhwanies” (renegades) in 90’s and who have earned his name in formulation conspiracies, is today at the highest position in the policy makers in New Delhi and is second authority after the Narender Modi in India, so this notion can’t be out rightly rejected that the “Lashkar-i-Islam” is the creation of the same brain and once again he wants to play a bloody game in this troubled state and create an atmosphere of terror and horror.

 

Hurriyat further said that according to the government figures, there are few Mujahideen left in whole of the Jammu & Kashmir and they too are very cautious and vigilant and due to the strong spy network, they hardly manage to expose themselves. Hurriyat however questioned that since the surfacing of the “Lashkar-i-Islam”, it seems that there are militants everywhere and not only this but they openly in the broad day light kill and threaten people and paste threat posters on the roads and army and police are totally unaware about this. “This kind of bravery attempts are only done by those persons who are either sponsored by the government or have any type of links with the secret agencies.”

 

Hurriyat further said that the impolite language which the personals of the “Lashkar-i-Islam” are using with the people related to the telecommunication, has never been the manner of the real Mujahideens and nor they use abusive language. Hurriyat conference appealed the people that not to worry and scary and don’t lose hope. “It is a temporary phase and this plot of the intelligence agencies will also fail to succeed in achieving its goal likewise in the past and Kashmiri nation will carry forward their just struggle at any cost and in any way. Indian wicked policies will prove curse for them and it will prove blessings in disguise for we people.” (CNS)

Published in News

یکم جون٥١٠٢ئ؁

دلی کے اشاروں پر یہ کارروائیاں عوام کا قافیہ حیات تنگ کرنے موجب بن رہی ہیں جماعت

سرینگروادی کے مختلف علاقوں میں پولیس نے بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاری کا جو تازہ سلسلہ شروع کررکھا ہے اور جس کے تحت دسیوں ایسے نوجوانوں کو گرفتار کرکے مختلف تھانوں اور اذیت خانوں میں بے بنیاد الزامات لگا کر مجبوس کیا گیا ہے جس سے ان علاقوں میں زبردست خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے اور والدین ودیگر لواحقین کافی تشویش کا اظہار کررہے ہیں ۔ جلسے جلوس منعقد کرانا یا کرنا، ہر ایک انسان کا بنیادی حق ہے اور اپنے من کی بات ظاہر کرنا، اظہار رئے کی آزادی ہے، اس حق کے استعمال پر قدغنیں عائد کرکے پولیس جمہوری اصول و اقدار کی دھجیاں اُڑا رہی ہے جو کہ اس کی منصبی ذمہ داریوں کے بالکل برعکس ہے۔ جنوبی کشمیر کے شوپیان اور اسلام آباد کے علاوہ شہر خاص کے چند علاقوں میں پولیس نے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا یہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو عوام میں خوف و دہشت اور تشویش کا سبب بن رہا ہے۔

جماعت اسلامی جموں وکشمیر گرفتاریوں کے اس تازہ سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اِس خدشے کا اظہار کرتی ہے کہ شاید دلی میں بی جے پی حکومت کے اشاروں پر یہ کارروائیاں ہو رہی ہیں تاکہ یہاں کی مسلم آبادی کا قافیہ حیات تنگ کرکے، ان کے خلاف تیار کی گئی سازشوں کو عملانے کا ایک ماحول قائم کیا جائے۔ جماعت اسلامی یہاں کی انتظامیہ اور پولیس کو ان جمہوریت کش کارروائیوں سے باز رہنے پر زور دیتے ہوئے جمہوری اقدار کی پاسداری کی تلقین کرتی ہے۔

Published in News

Srinagar: A day after Hurriyat hawk Syed Ali Geelani asked United Jihad Council to reveal truth about ‘Lashkar-e-Islam’- the organization claiming the responsibilities of attacks on mobile towers and outlets, spokesperson UJC, Syed Sadakat Hussain Monday said that ‘Lashkar-e-Islam’ doesn’t exist anywhere while the Indian agencies have been using this outfit to mislead the people of Kashmir as well as defame the ongoing freedom struggle.

 

In a statement to CNS, the spokesperson said that, “UJC has already made it clear that Lashkar-e-Islam has nothing to do with the freedom struggle going on in Kashmir. This group got itself exposed when it threatened the Hurriyat leaders asking them not to participate in the funeral processions of martyrs. The activities of this group is the result of popularity of Mujhadeen in Kashmir. It is an Indian group created by India out of frustration,” the spokesperson said.

“UJC wants to make it clear that it will give a befitting reply to all those elements who are hell-bent to defame the Kashmir freedom struggle. Leaders and people of Kashmir are well aware about the shoddy character of Indian agencies and they will also help UJC to deal with this Indian sponsored group,” the spokesperson said. (CNS)

Published in News
Page 2 of 2

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker