Top Panel
You are here: HomeNewsItems filtered by date: May 2015
Items filtered by date: May 2015 - Islamic Media J & K
Days after a lesser known Hindu organization ‘Youth for Nation’ claimed that it will unfurl Indian tri-color at historic Lal Chowk in Srinagar city, militant outfit Hizbul Mujhadeen Thursday said it will be an act of cowardice and sheer frustration if “Hindu zealots” try to unfurl tricolor in Srinagar “under the protection and presence of 8 lakh Indian Army soldiers”.
Quoting Hizb chief spokesperson United Jihad Council Syed Sadaqat Hussain told a Srinagar based news agency that during his address at a high level meeting, UJC chief Syed Salahuddin said, “On the behest of Narendra Modi, a large number of Hindu fundamentalists associated with RSS, Shiv Sena and Bajrang Dal have entered into Jammu to carry out the massacre of innocent Kashmiri people.”
Published in News

Largest students organisation of the valley Islami Jamiat e Talaba J&K is holding "MODEL ENTRANCE TEST (PRE-CET)

For students aspiring to appear in Common entrance test 2015 for MBBS on DATE : 26-MAY-2015. Papers devised by

highly experienced techers..

 

NOTE: For registration contact : +919622767663

Published in News

ڈیلی ویجروں اور آر ٹی اساتذہ کے حقوق پر شب خون مارا جارہا ہے،

انسانی حقوق کی پامالیوں کی کڑی مذمت کی، مسئلہ کشمیر ایک اٹل حقیقتقیم جماعت

جماعت اسلامی کپواڑہ (ب) کے سالانہ اجتماع میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

 سرینگرجماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع کپواڑہ(ب) کا سالانہ اجتماع آج فروٹ منڈی ہندواڑہ میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں دور دراز علاقوں سے آئے ہوئے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اجتماع میں امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی نے سورہ بقرہ کی آیت ١٢/اور ٢٢/کی روشنی میں درس قرآن پیش کرتے ہوئے کہاکہ اسلام میں عبادت کا مقام یہ ہے کہ مسلمانوں میں انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی تقویٰ شعاری پیدا ہوجائے۔ تقویٰ حاصل ہونے کی صورت میں دلوں میں خدا خوفی پیدا ہوجاتی ہے اور جب سارے سماج میں عام لوگوں کے اندر اللہ کا ڈر پیدا ہوجاتا ہے تو فساد فی الارض کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں ۔ تقویٰ ہو تو سماج میں خدا پرستی اور انسان دوستی کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے۔ امیر جماعت محمد عبداللہ وانی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیرجو دعوت پیش کرتی ہے اُس کا بنیادی مقصد سماج کو اسلامی خطوط پر استوار کرنا ہے اور ایک ایسے صالح سماج کی بنیاد رکھنا ہے۔ محمد عبداللہ وانی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنا چاہتی ہے ۔نائب امیر جماعت نذیر احمد رعنا نے درس حدیث پیش کرتے ہوئے کہا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے اور خیر خواہی انسان دوستی کے جذبے کا دوسرا نام ہے۔موصوف نے کہا کہ امیر کی اطاعت ایمان کا ایک حصہ ہے اور اسلام نے امیر کی اطاعت پر خاص زور دیا ہے۔خطاب عام میں قیم جماعت اسلامی جموں وکشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا ریاست میں انسانی حقوق کی مسلسل پامالیاں ہورہی ہیں اور انصاف کے تمام ادارے سرکاری ایجنسیوں کی طرفداری کرکے انصاف کا خون کررہے ہیں ۔ انہوں نے کرائم برانچ کے ذریعے سے طفیل متوقتل کیس کو un traced قرار دئے جانے کے واقعے کو بھونڈا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ دن کے اُجالو ں میں پولیس اہلکار ایک معصوم نوجوان پر شلنگ کرکے اُسے ابدی نیند سلا دیتے ہیں اور پانچ سال تک تحقیقات کا ڈھونگ رچاکر بالآخرمجرمین کو جان بوجھ کرun traced قرار دے کر انصاف کا خون کیا گیا۔قیم جماعت نے کہا کہ نارہ بل کے سہیل احمد کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کا ایف آئی آر میں نام درج نہ کرنا بھی اس بات کی پیشگی اطلاع دے رہی ہے کہ اس کیس کے سلسلے میں بھی مجرمین کو سزا نہیں دی جائے گی۔ قیم جماعت نے کہا کہ یہاں انصاف ناپید ہے اور موجودہ نظام میں اس کی توقع بھی نہیں کی جاسکتی ہے کہ جو ہاتھ کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اُن کے ہی ایوانوں میں انصاف کے تقاضے بھی پورے کیے جائیں گے۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ریاست جموں وکشمیر میں ہورہی ظلم و زیادتیوں کا سنجیدگی کے نوٹس لیں اور حکومت ہند پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ فوری طور بند کریں ۔قیم جماعت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ایک اٹل حقیقت ہے اور اس سے مسئلے کا کوئی بھی فریق حقائق سے فرار حاصل نہیں کرسکتا۔ موصوف نے کہا کہ جماعت اسلامی جموں وکشمیر اس مسئلے کے حل کے لیے دہائیوں سے قربانیاں دیتی آئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے نکالا جائے، تاکہ برصغیر میں نیوکلیر جنگ کا خطرہ ٹل جائے اور کروڑوں عوام کی ترقی کی راہیں کھل سکیں ۔ہندوستان میں فرقہ پرستوں کی جانب سے مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیے جانے کی کڑی الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ مسلمانانِ ہند کا آئے روز مختلف بہانوں سے جینا حرام کیا جارہا ہے او ر جماعت اسلامی اس فرقہ پرست ذہنیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ گجرات میں مسلمان بستیوں کو شہر کی تجدید و تزائین کے نام پر ہٹانے کا حوالہ دیتے ہوئے موصوف نے کہا کہ وہاں مسلمانوں کی اجتماعیت کو توڑنے کے لیے سینکڑوں گھرانوں پر مشتمل مسلمان بستی کو مسمار کر دیاگیا اور اُنہیں متبادل جگہ پرپلاٹ فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا۔ اب اُن کا شیرازہ بکھرنے کے لیے مختلف علاقوں میں ایک ایک دو دو خاندانوں کو بسایا جارہا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف مسلمانوں کی اجتماعیت پارہ پارہ ہوگئی بلکہ گجرات جیسے فرقہ پرست ذہنیت کی حامل ریاست میں مسلمانوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ گئی ہیں ۔ موصوف نے مزید کہا کہ دوہرا معیار اپنایا جارہا ہے۔ گجرات میں اقلیتی طبقے میں شامل مسلمان بستی کو ایک جگہ سے ہٹا کر الگ الگ علاقوں میں بسایا جارہا ہے اور ریاست جموں وکشمیر میں کشمیری پنڈتوں کے لیے الگ ہوم لینڈ کی باتیں کی جارہی ہیں ۔قیم جماعت نے ڈیلی ویجرملازمین اور رہبر تعلیم اساتذہ کے ساتھ حکومت کی جانب سے روا رکھے گئے ناروا سلوک کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہذب دنیا میں اگر چہ غلامی کا تصور ختم ہوچکا ہے لیکن ہمارے یہاں قلیل اجرات پھر پڑھے لکھے نوجوانوں کوبندھوا مزدور بناکر غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ایک جانب ڈیلی ویجراور رہبر تعلیم اساتذہ قلیل تنخواہوں پر کام کررہے ہیں دوسری جانب حکومت وقت کئی کئی مہینوں سے اُن کی تنخواہیں واگزار نہیں کررہی ہیں ۔ بیس بیس سال سے ڈیلی ویجر ملازمین کو مستقل نہیں کیا جارہا ہے اور جب یہی ملازمین اپنے جائز حقوق کی باز یابی کے لیے پُر امن احتجاج پر اُتر آتے ہیں تو پولیس اُن کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے۔ قیم جماعت نے ملازمین کے خلاف حالیہ پولیس کارروائیوں کی شدید الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈیلی ویجروں اور رہبر تعلیم اساتذہ کی جائز مانگوں کو تسلیم کرلیا جانا چاہیے۔عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ اس وقت اُمت مسلمہ شدید مشکلات سے دوچار ہے بالخصوص تحریکات اسلامی اپنوں اور غیروں کی ستم رانیوں کا شکار بنا دی گئی ہیں ۔ مصر میں اخوان المسلمون کے لیڈران اور کارکنان کی گرفتاریاں اور سزائیں اور بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی پر سرکاری عتاب عالم اسلام کے لیے کوئی نیک شگون والی بات نہیں ہے۔ یہ تحریکات اُمت مسلمہ کو ذلت اور پستی سے نکالنے کے لیے جدوجہد کررہی ہیں اور باطل طاقتیں نام نہاد روشن خیال مسلم حکمرانوں کا سہارا لے کر تحریکات کا راستہ روکنے کی کوششیں کررہی ہیں ۔ قیم جماعت نے تحریکات اسلامی کے خلاف ظلم و زیادتیوں کے اس سلسلے کی کڑی الفاظ میں مذمت کی۔اجتماع سے جن دوسرے مقررین نے خطابات کیے ہیں اُن میں سابق قیم جماعت غلام قادر لون نے ’’اُدخلو افی السلم کافۃ‘‘ کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں پورے کا پورا داخل ہوجانے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان اسلامی عقائد اور تعلیمات کی روح کو سمجھیں ۔ لادین اور باطل طاقتوں کے پیچھے نہ چلیں ۔ معاون ناظم شعبہ دعوت و تربیت غازی معین الاسلام ندوی نے خطاب بہ نوجوانان بعنوان’’ جوانوں کو میری آہِ سحر دے‘‘ پیش کیا۔ امیر ضلع کپواڑہ(ب) محمد اسماعیل لون نے ابتدائی و اختتامی خطاب میں جماعت کی دعوت اور اجتماعات منعقد کرنے کے مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر عمر سلطان نے ’’پیغام جمعیت‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ مسلم نوجوانوں کی زندگی سنوارنے کا کام کررہی ہے اور ملت اسلامیہ سے وابستہ تمام نوجوانوں کو اس تنظیم کاحصہ بننا چاہیے۔نماز عصر کے ساتھ ہی یہ اجتماع اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔

Published in News

An Israeli soldier said that he and his colleagues bombed civilian targets in the Gaza Strip during last year's war on the enclave for entertainment.

During an interview with French Le Monde newspaper in Jerusalem yesterday, the soldier who identified himself as Arieh, 20, said: "I was called to service early on July 2014 and was deployed to the Gaza Strip but until that time the operation [Operation Protective Edge] was not announced yet. Only some soldiers speculated that there will be war, but later our commander told us to imagine a 200 metre radius and to immediately shoot anything moving inside this circle."

"We bombed civilian targets for entertainment," he said, adding that "one day at about 8am we went to the Al-Bureij; a highly dense residential area in central Gaza, and the commander told us to select a random target and shoot it, at the time we did not see any Hamas fighters, no one shot at us, but the commander told us jokingly: 'We have to send Bureij a morning greeting from the Israeli army'."

"I remember that one day, a soldier from our unit was killed and our commander asked us for revenge so I drew the tank randomly towards a huge white residential building, just four kilometres away from us and fired a shell at the 11th floor. I must have killed civilians who were absolutely innocent," he continued.

He pointed out that the target was to destroy Gaza's infrastructure, not only Hamas, saying: "We entered the Gaza Strip on July 19 2014 to search for Hamas's tunnels between Gaza and Israel, but our goal was to destroy Hamas and the Gaza Strip's infrastructure and to create the largest possible damage to the agricultural land and the economy. Hamas had to pay an expensive bill in order to think twice before entering into a new conflict with us."

"We destroyed many Palestinian buildings, farms and electricity poles. They told us that 'we must avoid civilian casualties as much as possible', but how could you do that when they ask you to leave behind so much destruction," he added. He stressed that what happened in the Gaza Strip violates what he learned in the army. "I learned in the army that you are responsible for setting goals and hitting them. We have also learned during our training that you cannot play with the trigger, even on a trial basis, but what happened in the enclave was contrary to our consciences."

Arieh said: "During the operations in the Gaza Strip, the unit commander said: 'If you see someone in front of the tank who does not immediately flee, you must kill them.' so he could see that there are civilians."

Arieh added that the limits for the battle were very broad and based on personal decision.

"If you see something suspicious in the window of a Palestinian home, or were afraid while you approached a house with a tank, you could fire immediately, even if there was no actual threat. This principle was contrary to everything we have learned in previous military exercises before the July 2014 operation in the Gaza Strip," he said.

"We used shells excessively, when I saw anything moving, if an open window, I would shell it. If I saw a moving car, I would fire a rocket. We fired missiles at moving objects and not individuals. We did not see moving individuals in our surroundings, but we fired anyway. We only saw women and children and elderly in the ceasefire which lasted only for a few hours, but I was so afraid that there were suicide bombers among them that I thought to shoot near them."

"I can confirm that we only saw civilians, we did not see any Hamas fighters. We knew they moved through tunnels. We would enter an area and suddenly they would start firing at us and we would retreat. We were more afraid than Hamas spies who stood on rooftops with their phones to reveal our locations," the soldier explained.

Arieh said the Israeli army would fire at any house if they saw someone holding a telephone and standing on the rooftop. "We considered anyone with a telephone on a rooftop a Hamas spy, even if that person was a woman."

Arieh is one of about 60 Israeli soldiers who agreed to testify in a report prepared by Israeli human rights organisation Breaking the Silence.

The 237-page report concluded that the Israeli army left "unprecedented harm" among Palestinian civilians during the war through random firing and the application of loose rules of engagement.

The Israeli army launched a 51-day war on the Gaza Strip on 7 July 2014, resulting in the death of more than 2,000 Palestinians and wounding about 11,000 others, according to the Palestinian Ministry of Health.

Meanwhile, 68 Israeli soldiers and four civilians were killed and 2,522 more were injured including 740 soldiers, according to official Israeli figures.

Published in News

٣/مئی٥١٠٢ئ؁

گاندربل میں جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

سرینگرجماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع گاندربل کا سالانہ اجتماع آج منیگام برلب نالہ سندھ منعقد ہوا۔ اجتماع میں ضلع سے تعلق رکھنے والے دور دراز علاقوں کے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔قیم جماعت اسلامی جموں وکشمیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی تحریک ہے ، یہ انبیائ ؑ کی تحریک ہے اور یہ ہمارے اسلاف کی تحریک ہے۔ اس تحریک کے ذریعے سے ہم دنیا تک دین اسلام کی دعوت پہنچانے کا کام انجام دے رہے ہیں ، کیونکہ دین اسلام پوری انسانیت کا دین ہے اور ہم چاہتے ہیں پوری انسانیت اللہ کے احکامات کی پیروی کرے تاکہ زمین میں برپا فساد ختم ہوجائے۔قیم جماعت نے کہا کہ آج کے دور میں اسلام پسندوں کا قافیہ حیا ت تنگ کیا جارہا ہے اور حکومتی سطح پر اسلام پسندوں کو ہر سطح پر تنگ طلب کیا جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال جموں وکشمیر میں تحریک اسلامی سے وابستہ افراد کو پاسپورٹ جاری نہ کرنا ہے۔ جماعت کے افراد کو حج جیسا مذہبی فریضہ ادا کرنے نہیں دیا جاتا ہے ، وجہ صرف یہ ہے کہ ہم اسلام کی بات کرتے ہیں اور اسلامی نظام کو ہی انسانیت کے لیے ضابطہ حیات مانتے ہیں ۔اسلام پسندوں کے خلاف یہ ظلم وجبر ریاست جموں وکشمیر میں ہی نہیں بلکہ عالم اسلام میں ہر جگہ روا رکھا گیاہے۔قیم جماعت نے کہا کہ دنیا نے معاملات کے حوالے سے دوہرا پیمانہ اپنا رکھا ہے۔ مسلمان ہر جگہ مظلوم ہیں ، گاجر مولی کی طرح کاٹے جارہے ہیں ، اس کے باوجود اُنہیں دہشت گرد گردانا جارہا ہے اس کے برعکس اصل دہشت گرد امریکہ اور اُس کے دیگر مغربی و یورپی حواری دنیا ئے انسانیت کا امن و امان درہم برہم کیے ہوئے ہیں اُنہیں کوئی دہشت گرد نہیں کہتا ہے۔ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ ریاستی حکومت سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کے خاطر اب فلمی لوگوں کو یہاں آنے کی دعوت دے رہی ہے حالانکہ یہ سیاحتی شعبے کو فروغ دینا نہیں بلکہ بے حیائی اور بے شرمی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کی نوجوان نسل اور عوام ریاست میں سیاحت کے نام پر بے حیا کلچر کو پروان چڑھانے کی کسی بھی قیمت پر اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں مغربی پاکستان کے شرنارتھیوں کو بسانے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت وقت کو یاد رکھنا چاہیے کہ ریاست ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس خطہ کے متنازعہ حیثیت پوری دنیا نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے تسلیم کی ہے۔ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ یہ مسئلہ کشمیر ہی ہے جس کے لیے یہاں کے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں نے جانی قربانیاں دی ہے اور کسی متنازعہ خطے میں دوسرے ملک کے لوگوں کو بسانے کے پیچھے صرف یہ مقاصدکار فرما ہیں کہ یہاں مسلمانوں کے تناسب کو کم کیا جائے تاکہ ریاست کی متنازعہ حیثیت کو ختم کیا جاسکے۔پنڈتوں کی وادی واپسی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ پنڈتوں کی وادی واپسی کا ہم خیر مقدم کریں گے لیکن اُن کے لیے الگ بستیوں کا قیام جماعت اسلامی اور یہاں کے عوام کے لیے ناقابل قبول ہے۔ کیونکہ بستیوں کی آڑ میں اصل میں ہندتوا ایجنڈا آگے بڑھانے کی سازشیں ہورہی ہیں اور اُن سازشوں کا بنیادی مقصد کشمیرکو فلسطینی طرز پر تقسیم کرنا ہے اور یہاں کے لوگوں کو جائز جدوجہد برائے حق خود ارادیت کو دبانا ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے قیم جماعت نے جماعت کے دیرینہ موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس دیرینہ مسئلہ کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے یہاں کے عوام کی خواہشات کے عین مطابق نکالا جائے۔حکومت کی طرف سے نئی بھرتی پالیسی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ یہ عمل یہاں کے نوجوانوں کو غلام در غلام بنانے ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت پڑھے لکھے نوجوانوں کو اس حد تک مجبور و مغلوب کیا جائے کہ وہ سیاست دانوں کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور ہوجائیں ۔ قیم جماعت نے اس پالیسی کو نوجوان دشمن قرار دیتے ہوئے اس کی کڑی الفاظ میں نکتہ چینی کی۔ ریاست میں پے در پے انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ترال اور نارہ بل جیسے واقعات کی غیرجانبدار تحقیقات عمل میں لائی جانی چاہیے۔ نیپال میں حالیہ زلزلہ کے نتیجے میں ہوئے انسانی جانوں کے اتلاف پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ یہ ایک انسانی سانحہ ہے اور ستم زدہ انسانیت کی مدد کرنے کے لیے جماعت نے ایک فنڈ قائم کیا ہوا ہے اور موصوف نے عوام الناس سے اُس فنڈ میں معاونت کرنے کی اپیل کی۔اس سے قبل امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے درس قرآن پیش کرتے ہوئے کہاکہ قرآن فہمی وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے ۔ لوگوں کو قرآنی تعلیمات حاصل کرکے اللہ تعالیٰ کی اس کتاب پر عمل پیرا ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مومنین کی صفات میں فہم قرآن ایک اہم صفت ہوتی ہے اور مومنین نماز قائم کرنے والے والے ہوتے ہیں ۔ امیر جماعت نے مزید کہا کہ اس وقت جن حالات سے ہم گزر رہے ہیں اُن سے نبرد آزما ہونے کے لیے اللہ کے نظام کی جانب رجوع کرنا ہوگا اور ہمیں اپنے اندر زیادہ سے زیادہ جذبۂ انفاق پیدا کرنا ہوگا۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا مومنین کی سب سے اہم اور بنیادی صفت ہوتی ہے۔اجتماع میں نائب امیر جماعت نذیر احمد رعنا کی صدارت میں ایک محفل مذاکرہ بعنوان’’زمین میں فسادانسان کے اعمال کا نتیجہ‘‘منعقد ہوا۔ محفل مذاکرہ میں جن مقررین نے حصہ لیا اُن میں ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا طارق احمد مکی، معاون ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا غازی معین الاسلام ندوی اور ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ جموں وکشمیر عمر سلطان شامل تھے۔امیر ضلع گاندربل گل محمد وار اور قیم ضلع گاندربل بشیر احمد لون نے بھی اجتماع سے خطابات کیے ہیں ۔بشیر احمد لون نے ’’دین کے تقاضے ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔نماز عصر کے ساتھ ہی اجتماع کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔

 

Published in News

٠٣/ اپریل ٥١٠٢ئ؁

سرینگرنیپال میں حال ہی میں جو بھیانک زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں زائد از دس ہزار افراد کے ہلاک اور ہزاروں کے زخمی ہونے کا اندیشہ ہے اور اس کے علاوہ نیپال کی ہنستی بستی بستیاں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر قدرتی آفات کے ان مواقع پر بلاتفریق مذمت و ملت متاثرین کی معاونت کرنا، اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے۔ اس انسانی فریضہ کو مدنظر رکھ کر جماعت نے نیپال کے اس سانحہ پر ’’ نیپال زلزلہ متا ثرین ریلیف فنڈ ‘‘ قائم کیا ہے اور اس سلسلے میں اپنے متوسلین اور عامۃ الناس سے مخلصانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ نقد و جنس کی صورت میں اپنی معاونت جماعت کے بیت المال میں براہ رست پیش کریں یا مندرجہ ذیل بنک اکاونٹ زیر نمبرCD-0523010100001735 جموں و کشمیر بینک برائچ بازار بٹہ مالو سرینگر میں جمع کرکے خیر الدّارین حاصل کریں ۔

Published in News

 

There is absolutely no need to establish separate townships for the migrant Pandits in 

 

the valley as it will create serious problems for both the communities in near future 

 

and end in unpredictable hostilities which the communally frenzied forces of India 

 

desire and wish. Jama’at Islami J&K cautions both the communities to remain aware 

 

of the situation and not to allow the vicious elements to succeed in their nefarious 

 

designs of causing permanent fissures amongst the people of Kashmir which is quite 

 

against the harmonious atmosphere of the region. The leadership of the Pandit 

 

community should not be swayed away by the RSS-BJP agenda which is at all not in 

 

their individual or collective interest.

 

Jama’at Islami J&K welcomes the return of the Pandit fraternity to the valley 

 

and starting their life as they used to live before their migration without seeking any 

 

separate home land or townships or secure zones as they are fully secure if they live 

 

along with their Muslim neighbors keeping the age old traditions intact.  

 

Jama’at also denounces the dubious policy of issuance of PRC’s at school level 

 

by some BJP ministers in some parts of Jammu province and expresses its resentment 

 

over issuing ambiguous and contradictory statements regarding the subject matter by 

 

the present regime.

Published in News
Page 2 of 2

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker