Top Panel
You are here: HomeNewsItems filtered by date: May 2015
Items filtered by date: May 2015 - Islamic Media J & K

بے حیائی اور منشیات کو جان بوجھ کر فروغ دیا جارہا ہے،برما ، مصر اور بنگلہ دیش کی صورتحال تشویشناکامیر جماعت

جماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع سرینگر کے اجتماع میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

 سرینگرجماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع سرینگر کا سالانہ اجتماع آج شہر سرینگر کے قلب واقع سپورٹس گراونڈ بابا ڈیمپ میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں ضلع سرینگر سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اجتماع میں امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی نے سورہ الحجرات کی آیات کی روشنی میں درس قرآن پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاح معاشرے کے لیے قرآن مجید میں واضح ہدایات نازل کیے ہیں ۔معاشرے کو بگاڑنے میں چغل خوری، غیبت، تجسس، ایک دوسرے کی عیب اُچھالنا اور دوسروں کے معاملات میں بے جادخل اندازی کرنے کا اہم رول ہوتا ہے اس لیے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ مومنین کو ان بیماریوں سے باز رہنے کے لیے واضح حکم دیتا ہے۔ محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ ایک صالح معاشرہ تعمیر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم چغل خوری، غیبت اور عیب جوئی سے باز رہیں ۔ اپنے معاشرے میں حسن ظن پیدا کرنے سے ہی اسلامی معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے ۔ بصورت دیگر اُمت مسلمہ اپنی دینی بنیادوں سے دور ہوتی جائے گی اور مسلمان صرف نام کے رہ جائیں گے۔ امیر جماعت نے کہا کہ ہمیں اپنے معاشرے میں دوسرے مسلمانوں کے بارے میں حسن ظن سے کام لینا چاہیے اور اُن کے ساتھ دینی بنیادوں پر تعلقات قائم کرلینے چاہیے۔اپنے خطاب عام میں قیم جماعت اسلامی ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کا مختلف ایشوز کے حوالے سے واضح اور دو ٹوک مؤقف ہے اور ہم باتوں میں یقین کرلینے کے بجائے عملی زندگی میں تبدیلی کے خواہاں ہیں ۔ قیم جماعت نے مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کی جدوجہد برائے حق خود ارادیت مبنی برحق ہے اور اس تحریک کے لیے اس قوم نے ایک لاکھ سے زائد انسانی جانوں کی قربانیاں پیش کی ہیں ۔ ٠٣/ہزار بیوائیں اور دو لاکھ کے قریب یتیم بچے اور سینکڑوں خواتین کی عصمت ریزیاں اس بات کی گواہیاں دے رہی ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے خاطر کشمیری قوم کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ تریپورہ آسام میں افسپا ہٹائے جانے کی مثال پیش کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر میں بھی اس قانون کی آڑ میں وردی پوش انسانی حقوق کی پامالیاں کرنے میں مشغول ہیں اور اب یہاں بھی اس قانون کو ہٹائے جانے کے لیے آوازیں اُٹھ رہی ہیں ۔لیکن بھارتی محکمہ دفاع کسی بھی صورت میں ریاست جموں وکشمیر کے مخصوص علاقوں سے بھی یہ سیاہ قانون ہٹانے کے حق میں نہیں ہے۔ قیم جماعت نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل ہوجانے سے تمام مسائل از خود حل ہوجائیں گے اور جماعت اسلامی کا مؤقف یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ذریعے سے نکالا جانا چاہیے اور اگر کسی وجہ سے اُن قرار دادوں کر عمل آوری ممکن نہ ہوسکے گی تو پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے جس میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندے شامل ہوں اس مسئلہ کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے عین مطابق نکالا جانا چاہیے۔انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ٠١٠٢ئ؁ میں انسانی جانوں کے اتلاف کا گراف کم کرنے کی خاطر احتجاجوں سے نمٹنے کے لیے غیر مہلک ہتھیار استعمال کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن جنگلی جانوروں کے خلاف استعمال کیا جانے والا پلیٹ گن متعارف کرایا گیا اور اس انسان دشمن ہتھیار کا نشانہ درجنوں نوجوان بن گئے ۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2010 سے تا حال 36 نوجوان بینائی سے محروم ہوچکے ہیں ۔ قیم جماعت نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ جہاں گزشتہ حکومت کے دور میں پی ڈی پی نے پلیٹ گن کے استعمال کے خلاف اسمبلی سے واک آوٹ کیا تھا وہیں آج حکومت میں رہ کر یہ لوگ خود اس ہتھیار کا استعمال کرکے نوجوان نسل کو بے کار بنانے کا جرم عظیم انجام دے رہے ہیں ۔ اس کی تازہ مثال پلہالن پٹن کا دسویں جماعت کا طالب علم حامد نذیر بٹ ہے جسے پلیٹ گن کے ذریعے اندھا بنادیا گیا۔قیم جماعت نے کہا کہ وادی میں جان بوجھ کر بے حیائی اور منشیات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ حکومت وقت کروڑوں روپیہ فلمی دنیا کے لوگوں پر خرچ کرنے کے لیے بے تابی کا مظاہرہ کررہی ہے جبکہ سیلاب متاثرین تاحال بنیادی امداد سے محروم رکھے گئے ہیں ۔ نوجوان نسل کو منشیات کی بیماری میں جان بوجھ کر مبتلا کیا جارہا ہے اور یہ سازشیں ہیں کشمیری نسل نو کو بے کار بنانے کی ۔سرکاری ملازمین پر پولیس کی جانب سے طاقت کا بے جا استعمال کیے جانے پر قیم جماعت نے کہا کہ سرکاری ملازمین اپنے جائز حقوق کے لیے پُر امن طریقے سے مانگ کررہے ہیں تو حکومت اُن کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے اور یہ ملازمین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ قوم کشمیر کی تذلیل بھی ہے کہ جو لوگ یہاں زندگی کے تمام شعبوں کا نظام چلانے میں اپنی صلاحتیں بروئے کار لارہے ہیں ، حکمران ٹولہ اُن کی جائز مانگوں کو پورا کرنے کے بجائے اُن کے طاقت کا استعمال کرکے اُن کی آواز کو دبارہی ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم و جبر روا رکھے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ ہریانہ میں جاٹ قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک مسلمان بستی پر حملہ کرکے مرد، عورت اور بچوں کو زد کوب کیا اور متعددمسلمان شدید زخمی کردئے گئے ۔ جاٹ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے سے روکنے کے بہانے یہ فرقہ پرستانہ کارروائیاں کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے طرز عمل سے ہندوستان کی مذہبی آزادی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے اور ایسے مسلم دشمن کارروائیاں مسلمانانِ ہند کو عدم تحفظ کا شکار بنا رہی ہیں ۔اُمت مسلمہ کی زبوں حالی کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہورہا ہے۔ وہاں خواتین کے ساتھ دست درازی اور بچوں کا بے دردی کے ساتھ قتل عام دن دھاڑے ہورہا ہے حتیٰ کہ امریکہ سے شائع ہونے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ ٹائم میگزین نے اس حوالے سے Cover Story میں برمی بودھ دہشت گردی کا عبرتناک چہرہ بے نقاب کردیا ہے لیکن اس کے باوجود نام نہاد جمہوری دنیا ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ قیم جماعت نے کہا ہے کہ برما ،عراق، شام، بنگلہ دیش اور مصر کی صورتحال تشویشناک ہے اور انہوں نے عالم اسلام سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے ٹھوس اقدامات کریں ۔اس کے علاوہ جن دوسرے مقررین نے اس اجتماع سے خطاب کیا ہے اُن میں نائب امیر جماعت اسلامی نذیر احمد رعنا، ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا طارق احمد مکی، معاون ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا غازی معین الاسلام ندوی، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ عمر سلطان، امیر ضلع شوپیان شہزادہ اورنگ زیب مکی، امیر ضلع اسلام آباد احمد اللہ پرے مکی، قیم ضلع گاندربل بشیر احمد لون، قیم ضلع بڈگام خاکی محمد فاروق شامل ہیں ۔ادارۂ فکر و ادب کے اہتمام سے اجتماع میں فہیم عرفانیؔ کی صدارت میں ایک ادبی نشست میں منعقد ہوئی جس میں نامور شعرائ نے اپنا کلام پیش کیا۔اس موقع پر اجتماع کے متصل جماعت اسلامی ضلع سرینگر کے اہتمام سے ایک میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں دو ہزار سے زائد مریضوں کا علاج و معالجہ کیا گیا اور ہزاروں روپے مالیت کی دوائیاں بھی مفت تقسیم کی گئی۔ نماز عصر کے ساتھ یہ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔

Published in News

٩٢/مئی٥١٠٢ئ؁

اُمت کی زبوں حالی سے نکلنے کے لیے دینی و عصری علوم لازم و ملزوم امیرجماعت

 سرینگرامیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے آج نماز جمعہ کے موقع پر جامع مسجد شاہ زادہ متصل جامعہ سراج العلوم ہلو امام صاحب شوپیان میں لوگوں کے ایک بڑے مجموعے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اصلاح معاشرہ اور اتحادِ اُمت میں مساجد کا رول نمایاں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اسلامی معاشرے میں مساجد نے ہر دور میں پارلیمنٹ کا رول نبھایا ہے ۔ ملت اور سماج سے جڑے تمام مسائل مساجد میں حل کیے جاتے تھے، وفود یہاں سے روانہ ہوتے تھے اور اصلاح معاشرہ کے حوالے سے درس و تدریس کا سلسلہ بھی مساجد ہی میں جاری ہوتا تھا۔امیر جماعت نے کہا کہ اُمت مسلمہ کی بدنصیبی یہ ہے کہ آج ہم نے مسجد کو دو رکعت کی نماز تک ہی محدود کردیا ہے۔حالانکہ مساجد آج بھی اُمت میں وہی رول ادا کرسکتی ہیں جو قرون اولیٰ میں مساجد نے ادا کیا ہے۔محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ اتحاد اُمت میں بھی مساجد نمایاں رول ادا کرسکتی ہیں ۔ مساجد تمام طرح کی تفریق مٹاکر محمود و ایاز کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتی ہیں اور یہی اُمت مسلمہ کے اتحاد کا ضامن بن سکتا ہے۔امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی نے مزید کہا کہ اس وقت عالم اسلام جس زبوں حالی کا شکار ہے اور جس طرح سے مسلمان ہر جگہ پٹ رہے ہیں اُسے باہر آنے کے لیے لازمی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو دینی اور عصری علوم سے آراستہ کریں ۔ موصوف نے کہا کہ المیہ یہ ہے کہ ہم دینی اور عصری علوم میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ دین پڑھانے والے عصری علوم سے لاتعلق ہیں جبکہ عصری علوم پڑھنے والے دینی علوم سے بے بہرہ ہیں ۔امیر جماعت نے کہا ضرورت اس بات کی ہے کہ اُمت مسلمہ اپنی سطح پر ایسے اداروں کا قیام عمل میں لائیں جہاں دینی اور عصری علوم کا سنگم ہو۔ انہوں نے جامعہ سراج العلوم امام صاحب شوپیان کے منتظمین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وقت کے تقاضوں کو سمجھا ہے۔ جامعہ سراج العلوم جہاں حافظ قرآ ن اور عالم دین پیدا کررہا ہے وہاں عصری علوم میں بھی یہاں سے فارغ التحصیل بچے نام پیدا کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں جامعہ سراج العلوم کی کارکردگی کافی اطمینان بخش ہے اور یہ اسلامیان کشمیر کے لیے نیک شگونی کی علامت ہے۔

Published in News

RSS in order to implement its hidden agenda in the Muslim-dominated Jammu and Kashmir region has become active in the Jammu province and in order to achieve its sinister goal has started to replace the impartial and Muslim bureaucrats by the staunch Hindu officers in a phased manner which has created a great concern among the Muslim population in the said region. It seems that the Jammu province has been given absolutely in the control of the BJP, a coalition partner in the present state regime so as to give it a chance to implement its long-pending agenda of doing away with the Muslim-majority status of the state. Two chief Engineers of the divisional level in Jammu heading R&B and Electrical Maintenance deptts. (both Muslims) have been attached and replaced by two staunch Hindu officers and such type of transfers are taking place from the secretariat to the district and even tehsil levels. In the revenue deptt. a number of such type of transfers have also taken place and most of the Muslim employees have been shifted and replaced by the Hindus in order to facilitate the issuance of the P.R. certificates to the non-state residents in the Jammu province. In the state secretariat most of the high positions are being commanded by non-Muslim bureaucrats who frame the policies for the Muslim-dominated state. The people at the helm of affairs have always shown least concern for such type of grave issues for the fear of being dethroned and the people here have been witnessing this type of attitude since 1947.

Published in News

While  addressing an annual congregational meet of Jamati-I-Islami in Bait-ul-Mukaram mosque in Islamabad (Anantnag) town.

Castigating Union Defense Minister Manorahar Parikar’s statement that terrorists have to be neutralized by terrorists, Jamat-I-Islami Sunday said that renegade and Task force culture can in no way  muzzle the prevailing pro-freedom sentiment in Kashmir.

“ It is not a hidden fact that New Delhi has  been using  Ikhwan ( renegades) and Special Task Force (STF) to  unleash terror on Kashmiris but has failed to  break their resolve,”  General Secretary Jamat-I-Islami Dr Hamid Fayaz  said.

He was addressing an annual congregational meet of Jamati-I-Islami in Bait-ul-Mukaram mosque in Islamabad (Anantnag) town.

Published in News

٥٢/مئی٥١٠٢ئ؁

سرینگر٤٢/مئی کو زیندار محلہ سرینگر میں منعقد ہونے والے سمینار کو جس طرح پولیس نے طاقت کے استعمال سے ناکام بنا دیا اور وہاں لگے خیموں اور دیگر اشیائ کو اُکھاڑ کر زبردستی اپنے ساتھ لے گئی اور ڈرا ڈھمکا کر وہاں موجود لوگوں کو اس پُر امن سمینار کے انعقاد سے رکوایا، یہ ساری کارروائی بنیادی جمہوری اصولوں اور اقدار اور اظہار رائے کی آزادی کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ ہر ایک انسان کو اپنی بات کہنے کا بھر پور حق ہے اور ایک حقیقی جمہوریت میں اس کی بھرپور آزادی ہے لیکن وادی کشمیر میں جمہوریت کو بھی کبھی پنپنے ہی نہ دیا گیا اور ہمیشہ سرکاری مشینری کے غلط استعمال سے عوام کے اس حق کو دبایا گیا۔

جماعت اسلامی جموں وکشمیر پولیس کی اس کارروائی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے اس کی کڑی مذمت کرتی ہے اور ایسی تمام کارروائیوں کو جمہوریت کش اور عوام مخالف مانتی ہے۔

Published in News

٤٢/مئی٥١٠٢ئ؁

ریاست جموں وکشمیر تہذیبی جارحیت کے نرغے میں ، نشانہ ہماری نوجوان نسل

بھارتی مسلمانوں کی حالت زار قابل تشویش، مسئلہ کشمیر اٹل حقیقت قیم جماعت اسلامی

جماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع اسلام آباد کے سالانہ اجتماع میں ہزاروں لوگوں کی شرکت

 سرینگرجماعت اسلامی جموں وکشمیر ضلع اسلام آباد کا سالانہ اجتماع آج جامع مسجد بیت المکرم متصل بس اڈاہ اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجتماع میں ضلع اسلام آباد اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں سے ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے سورہ فرقان کی آیات ٣٦/ تا٦٧/ کی روشنی میں مومنین اور مسلمانوں کے صفات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مومنین اور مسلمان غرور ، گھمنڈاور بڑھائی و کبریائی کا شکار نہیں ہوتے ہیں بلکہ مسلمانو ں میں متانت ، نرم خوئی اور سنجیدگی ہوتی ہے اور مسلمان جاہلوں کے ساتھ الجھنے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ اپنی تمام تر صلاحتیں قوم وملت اور انسانیت کی فلاح و بہبود میں صرف کرتے ہیں ۔محمد عبداللہ وانی نے مزید کہا کہ مسلمان نہ ہی اسراف کا شکار ہوجاتے ہیں اور نہ ہی بخل سے کام لیتے ہیں ۔ مسلمان اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہوتے ہیں اور عام انسانوں کے مسائل اور دکھ درد میں کام آنے والے ہوتے ہیں ۔محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ قرآن مومنین کے اوصاف حمیدہ کو واضح انداز میں بیان کرتا ہے اوریہ اب مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کے دین کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر قرآن کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوجائیں تاکہ اُمت مسلمہ کی موجودہ زبوں حالی کا خاتمہ ہوجائے گا اور دنیا ئے انسانیت کو امن وسکون میسر ہوسکے ۔قیم جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے اپنے خطا ب عام میں کہا کہ ریاست جموں وکشمیر تہذیبی جارحیت کے نرغے میں ہے اور اس جارحیت کا نشانہ ہماری نوجوان نسل کو بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اپنی دعوت کے ذریعے گھر گھر نوجوانوں کو اس جارحیت کے زر رساں اثرات سے باخبر کرے گی۔ بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر کے حالیہ بیان کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے کہا کہ بھارت ریاست جموں وکشمیر میں اسرائیلی طرز عمل اختیار کرکے یہاں ٹارگٹ کلنگ کی پالیسی اپنانا چاہتا ہے۔’’دہشت گردی بمقابلہ دہشت گردی‘‘ کی پالیسی ریاستی دہشت گردی ہے اور اس پالیسی کا واضح مقصد یہ ہے کہ یہاں کے دین پسند اور حریت پسند افراد کو نشانہ بنایا جائے گا۔ قیم جماعت نے منوہر پاریکر کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام ریاستی دہشت گردی کی اس پالیسی کی ہر سطح پر مزحمت کرے گی۔ہندوستانی مسلمانوں پر فرقہ پرستوں کی افتاد پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ گائے کا گوشت کھانے والوں کو پاکستان جانے کے لیے کہا جاتا ہے، گھرواپسی، بیٹی بچاؤ اور بہو لاؤ اور مساجد کے خلاف لن ترانیاں اُس ذہنیت کی عکاسی کررہی ہے جو سیکولرازم کے تمام تر دعوؤں کی نفی کررہے ہیں ۔ قیم جماعت نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں نے بھارت کے سیکولر دعوؤں کو فریب بنادیا ہے اور اس ملک میں مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔مصر ، بنگلہ دیش اور برما کے حالات پر بات کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ ان ممالک کی صورتحال کے لیے جہاں اغیار کی سازشیں کارفرما ہیں وہاں اپنوں کی نادانیوں نے بھی گھناؤنا کردار نبھایا ہے۔ تحریکات اسلامی پر جاری ظلم و جبر اور آزمائشیں ملت اسلامیہ کے لیے کوئی نیک شگون نہیں ہے بلکہ یہ اُمت کوپتھر کے زمانے میں دھکیلنے کی مغربی کارستانیاں ہیں اور اس میں اُن کا ہاتھ نادان مسلمان حکمران بٹا رہے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر کو اٹل حقیقت قرار دیتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ برصغیر کے قیام امن کا راز مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے۔ موصوف نے کہا کہ برصغیر میں تب تک قیام امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا جب تک نہ مسئلہ کشمیر ، کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے قیم جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے ذریعے سے حل کیا جانا چاہیے یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے سے جس میں کشمیریوں کے حقیقی نمائندے شامل ہوں اس مسئلے کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق نکالا جانا چاہیے۔اجتماع سے جن دوسرے مقررین نے خطابات کیے ہیں اُن میں نائب امیر جماعت نذیر احمد رعنا،سابق امیر جماعت شیخ محمد حسن، سابق قیم جماعت غلام قادر لون، امیر ضلع اسلام آباد احمداللہ پرے، ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا طارق احمد مکی، معاون ناظم شعبہ دعوت و تربیت مولانا غازی معین الاسلام ندوی، امیر ضلع شوپیان شاہ محمد اورنگ زیب، ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ عمر سلطان کے علاوہ سابق ناظم اعلیٰ واحد بشیر شامل ہیں ۔برستی بارش میں بھی ہزاروں لوگ مسجد کے صحن میں دن بھر اجتماع کی کاررروائی بغور سنتے رہے اور یہ عظیم الشان اجتماع نماز عصر کے ساتھ ہی اختتام پذیر ہوا۔

Published in News

٣٢/مئی٥١٠٢ئ؁

منوہر پاریکر اور مختار عباس نقوی کے بیانات بیمار ذہنیت کی عکاسی کررہے ہیں جماعت

سرینگرجماعت اسلامی جموں وکشمیر کو بی جے پی سے وابستہ بھارت کے وزیر دفاع مسٹر منوہر پاریکر کے اُس بیان پر کوئی تعجب نہیں ہوا جس میں انہوں نے کشمیر میں بقول اُن کے ’’دہشت گردی‘‘ کا مقابلہ سرکاری دہشت گردی سے کرنے کا واضح عندیہ دیا ہے کیونکہ موجودہ بھارتی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈا پر کام کررہی ہے جو نہ صرف جموں وکشمیر سے مسلمانوں کا صفایا کرنے کا دیرینہ منصوبہ رکھتی ہے بلکہ سارے بھارت سے’’گھر واپسی‘‘ کے نام مسلمانوں کو جبراً اسلام سے دستبردار کروانے کے ایک واضح پروگرام پر بھی عمل پیرا ہے لیکن یہ اُن کی بھول ہے کہ وہ مسلمانوں کا صفایا کرنے یا دینِ اسلام کے اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کامیاب ہوسکتے ہیں ۔اسلام اللہ کا دین ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اُس نے خود قبول کرلی ہے نیز اسلام ایک ایسا نور ہے جس کو انسانی پھونکوں سے بجھایا نہیں جا سکتا ہے۔ جہاں تک جموں وکشمیر میں سرکاری دہشت گردی قائم کرنے کا سوال ہے ، ایسا تجربہ گزشتہ ادوار میں بھی ہوا ہے اور عین ممکن ہے کہ پھر آوارہ قسم کے نوجوانوں کو بہکا کر اُنہیں یہ کام کرنے پر تیار کرلیا جائے گا لیکن جس طرح ماضی میں اُن کی یہ چالیں بری طرح ناکام ہوئیں اسی طرح آئندہ بھی ہوں گی لیکن اس سلسلے میں یہاں کے عوام کو کمال ہوشیاری اور حساسیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور یہاں کی عوامی قیادت اور دانشور طبقہ میں اتحاد و اتفاق سے ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دینا ہے جو ان شیطانی منصوبوں پر بروقت پانی پھیر دے۔ جماعت اسلامی مسٹر پاریکر کے اس بیان کو تمام جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کو پاؤں تلے روندنے کے مترادف قرا ردیتی ہے اور بین الاقوامی اداروں علی الخصوص انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق عالمی اور مقامی اداروں پر زور دیتی ہے کہ وہ اس دہشت گردانہ قول کا فوری نوٹس لے کر اس وزیر بے تدبیر کے خلاف مؤثر کارروائی کی خاطر، عالمی عدالت میں ایک مقدمہ دائر کرے۔

 نیز جماعت اسلامی بی جے پی کے ایک اور لیڈر مسٹر مختار عباس نقوی کے اس دھمکی آمیز بیان کی کڑی مذمت کرتی ہے جس میں انہوں نے بڑا گوشت کھانے والے مسلمانوں کو بھارت سے چلے جانے اور پاکستان ، سعودی عرب اور دیگر مسلم ملکوں میں بسنے کے لیے کہا ہے۔ مسٹر نقوی کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اُن کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے کیونکہ بھارت میں بسنے والے پچیس کروڑ مسلمانوں کو وہ جلاوطنی کی دھمکی صرف اس لیے دے رہا ہے تاکہ ہندتوا کے علمبردار اُس سے راضی رہ کر وہ اپنی جھوٹی شان اور ناپائیدار اقتدار کو قائم رکھ سکے۔ کیا مسٹر نقوی نے کبھی اپنے آقاؤوں کو سود اور شراب خوری پر پابندی لگانے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ اسلامی عقیدے کے مطابق سود کھانا اور شراب پینا بالکل حرام ہے۔

Published in News

Algerian opposition parties have condemned the mass death sentences handed out by an Egyptian court to ousted President Mohamed Morsi and over 100 Muslim Brotherhood members

At least 53 lawmakers representing the five opposition parties in Algeria yesterday signed a statement calling on the government to reject "human rights violations" in Egypt in the wake of the mass death sentences handed down to ousted President Mohamed Morsi and more than 100 Muslim Brotherhood leaders, the Anadolu Agency reported.

The five parties; the Movement for Society for Peace, Ennahda, the Movement for National Reform, the Justice and Development Front and the National Building Movement, called on the Egyptian judiciary to be "fair and independent and not to desecrate its reputation by issuing political sentences".

On Saturday, the Cairo Criminal Court sentenced ousted President Mohamed Morsi to death, along with 105 others, including senior Muslim Brotherhood members who were found guilty of planning mass prison-breaks in 2011.

The country's Grand Mufti must give his opinion on the court's decision before the sentences can be carried out.

The sentences can be appealed before higher courts.

Published in News

سرینگرمصر کی ایک عدالت نے سابق صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو ملکی راز افشاکرنے اور جیل سے فرار ہونے کے جعلی مقدمات میں موت کی سزا سنائی ہے۔ اخوان المسلمون سے وابستہ رہنماؤں کے خلاف ظلم و ستم کا جو سلسلہ وہاں کی مغرب کی حمایت یافتہ فوجی حکومت نے شروع کررکھا ہے اُس سے مہذب دنیا کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔ محمد مرسی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر ناجائز طریقے سے قابض ہونا اور پھر اخوان کے ہزاروں کارکنوں پر ٹینکوں اور توپوں سے حملہ آور ہوکر اُن کا قتل عام کرنا اور پوری لیڈر شپ کو جیلوں کے اندر ٹھونس دینا ظلم و بربریت کی عظیم مثالیں ہیں ۔ المیہ یہ ہے کہ اُمت مسلمہ کے بیشتر ممالک کے حکمران اخوان المسلمون کی جمہوری حکومت کا تختہ پلٹ دینے میں سازشیں رچانے والوں میں نہ صرف شامل تھے بلکہ اس کارِ بد کے لیے مصری فوجی جنرل السیسی کو مالی امداد بھی فراہم کی گئی۔ مرشد عام محمد بدیع کے علاوہ درجنوں اخوانی لیڈرا ن کو پہلے ہی موت کی سزا سنائی گئی اور اب سابق صدر محمد مرسی کو غیر قانونی طور پر قائم کی گئی ایک عدالت نے سزائے موت سنائی۔جماعت اسلامی جموں وکشمیر مصر میں اخوان المسلمون کے لیڈران اور کارکنان کے خلاف جاری ان مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور جماعت کا یہ ماننا ہے کہ یہ اخوان المسلمون کے خلاف اعلان جنگ نہیں بلکہ اسلام کے خلاف محاذ کھولا گیا۔ مغرب اور اُن کے مسلم عیش کوش حکمران دین اسلام کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں اور اسلامی تحریکات کی عوامی مقبولیت کو دیکھ کر بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں ، اس لیے ان تحریکات پر عتاب کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا ماننا ہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے اسلام کے نام لیوا مرعوب ہونے والے نہیں ہیں نہ ہی ان کارستانیوں سے اسلامی تحریکات کے بڑھتے قدم رُک سکیں گے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر اخوان المسلمون کی جملہ قیادت اور کارکنان سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور سابق صدر محمد مرسی کے علاوہ دیگر لیڈران کو سنائی جانے والی سزاؤں کو غیر اصولوں اور ظلم و جبر پر مبنی سزائیں مانتی ہے۔ جماعت اسلامی عالم اسلام کے مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اغیار کی سازشوں کو سمجھیں اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے جدوجہد میں اسلامی تحریکات کا ساتھ دیں ۔امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی اور جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی جملہ قیادت نے محمد مرسی کو سنائے جانے والی سزا کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

Published in News
Dr Maha Azzam, Head of Egyptian Revolutionary Council said, “the international community must act now - democratic governments have failed the people of Egypt by supporting a military regime that kills its own people and now has passed a death sentence against the first democratically elected President of Egypt in a farcical trial that has no legitimacy.'
 
Published in News
Page 1 of 2

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker