Top Panel
You are here: HomeNewsItems filtered by date: March 2015
Items filtered by date: March 2015 - Islamic Media J & K

Srinagar: Head of Department Earth Sciences, Kashmir University Professor Shakil Ahmed Ramshoo Tuesday that if luck favours people of Kashmir this week and they will not witness any flood, still the probability of such a flood shall increase with every passing day till September this year. “This is primarily due to very high groundwater levels all over the Kashmir valley attributed to last year’s extreme flooding and the wet March,” he said.

Talking to CNS, Ramshoo said that dilapidated flood control infrastructure is a worrying factor. The probability of flooding this year (2015) is very high. This was discussed seriously with the government machinery closed-door and the need for restoring and strengthening the flood control infrastructure was emphasized,” he said.

He said that realizing the looming threat of floods, the Government of India did sanction adequate funds in Dec-Jan (2014) for restoring the flood infrastructure but, “I am not sure how much of it was ultimately released to the government. However, unfortunately this was not a priority of the previous government or the present government which is very saddening,” he said.

“Some desilting in Jehlum was done here and there but it was never on the scale it deserved. This should have been a priority number one project of the last and this government. Unfortunately the present government got embroiled in frivolous political controversies and lost the precious time,” he said.

Romshoo added that 100 year flood data of Jhelum shows that whenever there is an extreme flood in Jhelum, Kashmir Valley had a small magnitude flood the following year or the year next. “The concerned government machinery is well aware of this data and the high probability of flooding this year. There is a reason for the people of Kashmir to worry this year as the flood infrastructure is week and fragile and it might start leaking even under 40,000 cusecs discharge,” he said.

Responding to a question, the Earth Sciences expert said that floods can’t be avoided but loss of life and property can be minimized. He said there is a dire need to take certain measures to check the floods.

“Both the Jehlum and the flood channels have lost the carrying capacity due to extensive siltation, encroachments and pollution. The carrying capacity of our flood channels have come down from 17,000 to 5000 cusecs waters and same is the case with the River Jehlum. No proper desilting and dredging has taken place from past many years,” he said and added the presence of ground water level is a major threat and it needs time for absorption.

When asked how flood threats can be minimized, Romshoo said that it is possible, provided the government shows seriousness. “All the flood channels and the River Jehlum needs thorough desiltation and dredging from Sangam to Khandanyar. This process will increase the carrying capacity of the river and channels. Government must pass a ‘Flood Plains Act’ banning horizontal expansion of settlements and encroachments on the water courses, reclamation of low-lying floodplain areas for agriculture, siltation of rivers, construction of roads along the river banks and construction in the flood plains. Besides, the embankments of Jehlum should be conserved, beautified and made robust to check any kind of breech and water leakage,” he said. (CNS)


Published in News

Noting the developing situation in Yemen with grave concern, the Muslim Brotherhood underscores the reasons for the crises faced by the region including Yemen as being the trampling of legitimacy, the quelling of the Arab Spring, repression of popular will, and attempts to impose views by armed force.

We hope the current developments in Yemen will quickly lead to constructive and objective national dialogue, based on the Gulf Cooperation Council (GCC) initiative and respect of the will of the Yemeni people and their revolution, which already produced a legitimate regime that should not be ousted.

The Muslim Brotherhood

Published in News

بیرون ریاست طلبہ و تاجر برادی پر حملوں کی کڑی مذمت/ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود
سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر کی مرکزی مجلس شوریٰ کا ایک یک روزہ اجلاس ۲۵؍مارچ ۲۰۱۵ء کو مرکز جماعت باراں پتھر بتہ مالو پر زیر صدارت امیر جماعت محمد عبداللہ وانی منعقد ہوا جس میں تنظیم کی گزشتہ سال کی کارکردگی کا بھر پور جائزہ لینے کے علاوہ‘ اس کے استحکام سے متعلق کئی تجاویز پر بحث و مباحثہ ہوا۔ نیز اسلام کی عالمگیر انقلابی دعوت سے عوام الناس کو روشناس کرانے کی خاطر دعوت و تربیت کے شعبہ کو مزید فعال بنانے کی خاطر کئی اقدامات کئے گئے۔ عالمی سطح پر اسلام مخالف پروپگنڈہ پر کافی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے‘ اجلاس میں اس حوالے سے اُمت مسلمہ کی بیداری کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اسلام کے خلاف چلائی جارہی عالمی سطح کی مذموم مہم کو ناکام بنایا جاسکے۔ نیز اُمت مسلمہ کے مابین جاری طبقاتی کشمکش جو اُمت کے عروج اور اسلام کے احیائے نو میں ایک اہم سنگ راہ ثابت ہورہی ہے‘ پر زبردست افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس میں اُمت سے وابستہ تمام طبقہ ہائے فکر کے علماء کرام اور دانشور حضرات پر زور دیا گیا کہ وہ اُمت کو اس خطرناک صورتحال سے نجات دلانے کی خاطر مؤثر اور ٹھوس اقدامات کریں اور اس کے لیے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیں اور عامۃ الناس کو اس شدید انتشاری کیفیت کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے‘ اتحاد و اتفاق کی برکات کو بھی واضح کریں کیوں کہ یہی وہ صورت ہے جس سے اُمت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتی ہے۔

Published in News
Junta Judiciary Deals Out Death Sentences to Muslim Brotherhood Chairman, 13 Leaders
With typical, blatant disregard for recognized standards of law and justice, yet another kangaroo court in Egypt issues mass execution orders against political opposition leaders.

A Cairo Criminal Court session, held at the Police Academy in Torah (south of Cairo), has issued mass death sentences against 14 opposition leaders including Dr. Badie, Dr. Ghozlan and Salah Sultan, in the sham trial known as the "Rabaa sit-in operations room" lawsuit, in which the Muslim Brotherhood chairman and 50 other leaders and members are accused of various trumped-up crimes.

The Court set a session for April 11 to pronounce the final judgment on the death penalty against:

Dr. Mohamed Badie, Dr. Mahmoud Ghozlan, Hossam Abu-Bakr, Mostafa Al-Ghoneimy, Saad Al-Husseini, Abdel-Raouf Shalaby, Salah Sultan, Izz Al-Din Omar, Saad Amara, Mohamed Mohammadi, Fathi Ibrahim, Salah Bilal, Mohamed Shehabeddin, Mossaad Barbary, and Abdel-Rahim Mohamed Abdul-Rahim.

The death sentences were issued by Judge Mohamed Nagi Shehata and the justices Yasser Yassin and Abdel-Rahman Safwat Al-Husseini.

Following the verdict, the defendants chanted: "Down with military rule".

Published in News


سرینگرمساجد نہ صرف عبادت گاہیں  ہیں  بلکہ رشدو ہدایت کے مراکز بھی ہیں  جہاں  سے اسلام کے پیغام ربانی کو مخلوقات تک پہنچا یا جاتا ہے۔ بی جے پی سے وابستہ فرقہ پرستی کے جنون میں  مبتلا ایک نام نہاد سوامی مسٹر سبھرامنیم کا وہ بیان انتہائی قابل مذمت ہے جس میں  کہا گیا ہے کہ مسجدیں  مذہبی مقامات نہیں  ہیں  اور ان کو مسمار کرنے میں  کوئی حرج نہیں  ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مسٹر سوامی کا دماغی توازن بگڑ چکا ہے اور اُس کے لیے بہتر ہے کہ وہ دماغی امراض سے متعلق کسی طبی ادارے میں  اپنا داخلہ کرائے تاکہ اس مہلک مرض سے وہ وقت پر افاقہ حاصل کرسکے۔مسجد وہ مقدس مقام ہے جہاں  کائنات کے آقا کی نہ صرف عبادت کی جاتی ہے بلکہ وہاں  بنی نوع انسان تک اُس کا پیغام بھی پہنچایا جاتا ہے جو انسان کی رہنمائی اور رہبری کے لیے ایک کامل ضابطہ حیات ہے۔ باطل کے علمبردار سوامی کو کیا معلوم کہ مساجد کی کیا شان ہے؟ یہ وہ مقام ہے جہاں  کوئی مسلمان تب ہی داخل ہو سکتا ہے جب وہ مکمل طور پر پاک ہو اور کوئی ناپاک انسان اس میں  داخل نہیں  ہوسکتا ہے۔ یہ کوئی مرضی کا عمل نہیں  ہے بلکہ فرائض میں  سے ہے۔ جونہی اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو سب سے پہلے جو کام آپ ؐ نے کیا وہ مسجد نبوی کی تعمیر ہے۔ یہ مسجد ہی مسلمانوں  کا پہلا پارلیمنٹ ہے اور ملت اسلامیہ سے متعلق تمام اہم امور پر بھی اسی میں  فیصلے لیے جاتے تھے اور عدالت کا کام بھی اسی میں  کیا جاتا ہے۔ تمام بین الاقوامی امور کے متعلق ضروری ہدایات بھی اسی مسجد سے جاری ہوتے تھے۔ خالق کائنات کے متعلق ہمارا پختہ ایمان ہے کہ وہ ہر جگہ موجود ہے البتہ مساجد وہ مقدس مقامات ہیں  جہاں  پر مالک کائنات کی عبادت کے ساتھ ساتھ اُس کا پیغام عوام الناس تک ابلاغ کیا جاتا ہے۔

Published in News

یہاں  کوئی دہشت گردی نہیں  ہے بلکہ یہاں  کے عوام حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں  جماعت


سرینگرایک سابق پولیس افسرکے اُس بیان جس میں  ایک حریت پسند لیڈر کو جان سے مارنے کے خاطر اس کو ایک بھاری رقم کی پیشکش کی گئی تھی سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں  ایک کشمیری مسلمان کی جان و مال اور عزت کی کوئی بھی قدروقیمت نہیں  ہے اور یہاں  کے اقتدار پرست سیاستدان اپنی کرسی ٔ اقتدار کی خاطر، یہاں  کے کسی بھی مسلمان کو بھینٹ چڑھانے میں  کوئی دریغ نہیں  کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس بیان سے یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ دلی کے حکمرانوں  کی یہاں  کے عوام کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں  ہے اُن کو بس یہاں  کی زمین چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہاں  کی خصوصی پوزیشن کو مٹانے کے درپے ہیں  تاکہ اُن کو یہاں  بھارت کے اُن لاکھوں  لوگوں  کو بسانے کا ایک بہانہ مل جائے جن کے پاس سر چھپانے کے لیے بھی کوئی جگہ وہاں  میسر نہیں  ہے۔ اس طرح سے آر ایس ایس اور اس جیسی دیگر فرقہ پرست تنظیموں  کو بھی یہاں  کی مسلم اکثریتی کردار پر کاری ضرب لگانے کا موقعہ ہاتھ آتا!یہاں  کی زمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر ان وسائل سے یہاں  کے لاکھوں  بے روز گار لوگوں  کو کوئی فائدہ ملنے کے بجائے، چوری چھپے اس بیش بہا دولت کو ریاست سے باہر برآمد کیا جاتا ہے۔ اس میں  علی الخصوص یہاں  پیدا ہونے والی پن بجلی اور جنگلات کی لکڑی شامل ہے۔ یہ استحصال ٧٤٩١ئ؁ سے برابر یہاں  جاری ہے اور اس میں  کوئی کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہی ہورہا ہے۔ ریاست کی خصوصی پوزیشن کا تحفظ کرنے کا دعویٰ کرنے والے مقامی سیاستدانوں  کے ہاتھوں  ہی یہ استحصال ہوتا آیا ہے۔ یہاں  تک کہ اب لاکھوں  کی تعداد میں  غیر ریاستی باشندے یہاں  کے مستقل سکونتی بن گئے ہیں ۔ جب بھی کوئی عوام دوست مقامی رہنما یا کارکن اس سیاسی اور معاشی استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے تو اُس کو نام نہاد قومی سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دے کر پبلک سیفٹی ایکٹ وغیرہ جیسے سیاہ قوانین کے تحت اور بے بنیاد الزامات لگا کر زینت زندان بنایا جاتا ہے جس کے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حال میں  شائع شدہ رپورٹ ایک چشم کشاکی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی مقدمہ چلائے بغیر یہاں  کے عوامی نمائندوں  کو زیر حراست رکھنا، دراصل عوامی آواز کو دبانے کے لیے کیا جاتا ہے اور دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جموں  وکشمیر میں  دہشت گردی کے انسداد کے لیے ایسے اقدامات کرنے پڑتے ہیں  حالانکہ یہاں  کوئی دہشت گردی نہیں  ہے بلکہ یہاں  کے عوام اپنا بنیادی حق’’ حق خودارادیت ‘‘کا مطالبہ کرتے ہیں  تاکہ اُن کو اس بدترین سیاسی، سماجی، تہذیبی اور معاشی استحصال سے نجات حاصل ہو۔

Published in News
Tuesday, 17 March 2015 00:00

Google Play removes Gaza game

HAMAS RELEASES A GAME FOR ANDROID USERS In response to Israeli pressure Google Play has removed the Gaza Man game.

Yesterday afternoon, Gaza's children found themselves unable to find the link to download the game on Google Play.

"It is new, but it became my favourite game," Sally Haddad, 12, from Gaza told Days of Palestine.

"I had played the game on my father's mobile for three days. On the fourth day, he bought me a new mobile to download the game and play it myself, but unfortunately, I did not find it," Haddad said.

Gaza Man is a Palestinian game simulating a battle between a Palestinian fighter covering his face with the Palestinian Kuffiyeh (scarf) and aggressive forces using automatic rifles, tanks, drones, fighter jets, etc...

The game starts, as it is clear in the game trailer, as the aggressive forces kidnap a boy playing football and harass his mother. Then, the fighter appears targeting these forces and causing them severe losses.

The game can still be downloaded and installed from the Gaza Man website directly on to Android devices.

Israeli pressure

Three days after the game was uploaded to Google Play, it was taken down by Google, who claimed it incites hatred against a certain nation. However, it only shows the Palestinian as a superhero.

The game received a 4.9 out of five star rating on the app store and largely positive comments from its users.

However, Israelis and the Israeli media claimed that the fighter in the game "guns down an endless stream of Israeli soldiers using an assortment of weapons." They described it as aggressive.


available here

Published in News

سرینگر//جموں و کشمیر مسلم لیگ کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کی ساڑھے چار سال کی طویل اسیری کے بعد غیر مشروط رہائی پر، جماعت اسلامی جموں وکشمیر انہیں زبردست مبارکباد پیش کرتے ہوئے اُن کی رہائی کو تحریک آزادی جموں و کشمیر کے لیے ایک نیک شگون تصور کرتی ہے۔ اُن کی رہائی پر بھارت کے چند فرقہ پرست قوتوں کا واویلا مچانا، اُن کی مسلم دشمن دہنیت کا واضح ثبوت ہے حالانکہ یہ حقیقت اظہر مِن الشمس ہے کہ موصوف سیاسی سطح پر تحریک آزادی سے وابستہ ہیں جو کہ ایک حقیقی جمہوریت میں ہر ایک فرد کا بنیادی حق تصور یا جاتا ہے۔ نیز جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی بات کرنا، ہر ایک انسان کا حق ہے اور اس حق پر قدغن لگانا، انسانیت کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی واضح پامالی ہے۔ مقامی ہند نوازوں کی طرف سے صاحب موصوف کی رہائی پر ناراضگی کا اظہار بھی انتہائی قابل افسوس ہے حالانکہ ایسے لوگ ماضی میں اپنے آپ کو عوام کے بنیادی حقوق کے محافظ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نہیں تھکتے تھے اور اسی بنیاد پر اُن کو کافی دیر تک یہاں کے مظلوم عوام کی مکمل حمایت بھی حاصل رہی۔ مسرت عالم کو یہاں ہائی کورٹ سے لے کر دیگر عدالتوں نے تمام مقدمات سے بری کردیا ہے اور یہاں کی حکومت ان کے خلاف آج تک کسی مقدمہ کو صحیح ثابت کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے البتہ پبلک سیفٹی ایکٹ اور دیگر کالے قوانین کا سہارا لیتے ہوئے ایک بے گناہ آدمی کی شخصی آزادی کو پامال کرتی رہی جو کہ دنیا کے تمام مہذب انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہونے کے علاوہ عدلیہ کی واضح توہین بھی ہے۔جماعت اسلامی کا واضح مؤقف ہے کہ تحریک آزادی سے وابستہ ہونے کی پاداش میں جو بھی قیدی یا نظر بند ابھی بھی جیلوں میں پڑے ہیں، اُن کو محبوس رکھنے کا کوئی بھی اخلاقی یا قانونی جواز نہیں ہے۔ اس لیے اُن کی رہائی انکا حق ہے۔


Published in News

۷؍مارچ۲۰۱۵ء ؁
سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر کے مرکزی دفتر واقع باراں پتھر بتہ مالو پر ماہانہ اجلاس کا انعقاد ہوا جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی محمد عبداللہ وانی نے کی اور اس نشست میں جملہ اُمراء و قیمین اضلاع کے علاوہ تمام دیگر شعبہ جات کے سربراہاں نے شرکت کی۔ نشست میں عالمی سطح پر ملی صورتحال کا بھر پور جائزہ لیا گیا اور فرانس میں پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور مغربی ممالک کی طرف سے پونے دو ارب کے قریب مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی اس کارروائی پر معنی خیز خاموشی مگر خاکوں کی اشاعت کرنے والے ادارے اور اس سے وابستہ اہلکاروں کی حوصلہ افزائی پر زبردست تشویش کا اظہار کیا گیا نیز مسلمان ممالک کے حکمرانوں کا اس حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہ اپنانے کے رویہ کو بھی افسوس ناک قرار دیا گیا حالانکہ دنیا میں ۵۷؍آزاد مسلم مملکتیں موجود ہیں اور پونے دو ارب کے قریب لوگ پیغمبر برحق صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جان و مال سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کو اپنے دینی و ایمانی غیرت کے لیے ایک زبردست چلینج سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود مسلمان حکمرانوں کی اس اہم ترین ملی معاملے پر خاموشی کوئی جواز نہیں رکھتی ہے۔ یہ بزدلی اور مغرب کی غلامی کی واضح علامت ہے۔ کیا مسلمان حکمران کسی ایک جگہ مل بیٹھ کر اس نازک ترین مسئلے کے متعلق کوئی مشترکہ لائحہ عمل نہیں اپنا سکتے ہیں اور فرانس اور اس جیسے دیگر ممالک پر اسلام دشمنی کی ان کارروائیوں سے باز رکھنے کی خاطر کوئی سفارتی یا معاشی دباؤ بھی نہیں ڈال سکتے ہیں؟ جماعت اسلامی کے اس اہم اجلاس میں جملہ مسلم حکمرانوں پر زور ڈالا گیا کہ مغربی دنیا کی طرف سے اسلام دشمنی کے ان اقدامات کے خلاف ایک مشترکہ اور مؤثر لائحہ عمل اپنائیں جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی دل آزاری پر مبنی ان کارروائیوں کا خاتمہ ہو۔ نشست میں مصرا ور بنگلہ دیش کے ممالک میں غاصبانہ اور ناجائز طریقے سے برسراقتدار حکمرانوں کی طرف سے وہاں کی اسلامی تحاریک یعنی اخوان المسلمون مصر اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے خلاف بڑے پیمانے پر معاندانہ کارروائیوں کی زبردست مذمت کی گئی اور عالم اسلام سے اپیل کی گئی کہ وہ آگے آکر اسلام دشمنوں کے ان آلہ کار حکمرانوں جنرل السیسی اور حسینہ واجد کو ان ظالمانہ کارروائیوں سے رکوانے کی خاطر مؤثر کارروائی کرے اور بے گناہوں کی خونریزی کے لیے ان حکمرانوں کو جوابدہ بنایا جائے۔

Published in News

  ۶؍مارچ۲۰۱۵ء ؁

اسلام تمام انسانوں کے حقوق کا محافظ دین ہے// امیر جماعت اسلامی
سرینگر //موجودہ معاشرتی بگاڑ کا واحد حل دین اسلام میں مضمر ہے اور اسلام تمام انسانوں کے حقوق کا محافظ دین ہے۔ ان باتوں کا اظہار امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر محمد عبداللہ وانی نے آج نماز جمعہ کے موقع پر نادی گام بڈگام میں ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر جماعت نے ’’اسلام ہی نجات دہندہ دین ہے‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے تمام مسائل کا حل اسلام میں موجود ہے اور اسلام صرف مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ محمد عبداللہ وانی نے کہا کہ اس وقت پوری انسانیت کو عموماً اور ملت اسلامیہ کو خصوصاً معاشرتی بگاڑ نے اپنے پنجوں میں جھکڑ رکھا ہے اور آدم کی اولاد دن بدن سماجی بگاڑ سے پریشانیوں میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔ سماجی بگاڑ نے انسانی سماج میں ایسے بھیانک جرائم کو جنم دیا ہے کہ سن کر ہی رونگٹے کھڑا ہوجاتے ہیں اور انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین و انصاف کے ایوان بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں۔ محمد عبداللہ وانی نے کہا انسانیت کو معاشرتی بگاڑ سے تب تک پناہ حاصل نہیں ہوگی جب تک اسلام کو نجی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی میں اپنایانہ جائے۔امیر موصوف نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے نا م لیوا روایتی مسلمان نہ بنیں بلکہ شعوری طور دین کو قبول کرکے اس کے سانچے میں اپنے آپ کو اور اپنی سماج کو ڈالنے کی کوششیں کریں۔ مسلم معاشرے کے سدھر جانے سے غیر مسلم معاشرے میں بھی مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گے اور غیر اقوام دین اسلام کی جانب راغب ہوجائیں گے کیونکہ عملی زندگیاں سماج پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ہیں۔ 

Published in News
Page 1 of 2


The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker