Print this page
Thursday, 19 November 2015 17:49

بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے فیصلہ عدل و انصاف کے منافی

Rate this item
(0 votes)

۹۱ نومبر۵۱۰۲ئ؁
ظلم کو عدل سے تعبیر کرکی، بنگلہ دیشی عدالت نے عدل کا مفہوم ہی تبدیل کیا ہی// جماعت
 سرینگر//بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے جس طرح سے سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی اور سابق پارلیمنٹ ممبر علی احسن محمد مجاہد اور بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ایک معروف لیڈر صلاح الدین قادر چودھری کی اُن کو نام نہاد جنگی جرائم ٹریبونل کی طرف سے دی گئی سزائے موت کے خلاف نظر ثانی کی درخواستوں کو رد کیا ، اس سے عدالتی انصاف پر سے لوگوں کا اعتماد ہی ختم ہوتا ہے کیونکہ جن الزامات کی بنیاد پر یہ خوفناک سزائیں دی گئی ہیں اُن کی کوئی بنیاد ہی نہیں بلکہ وہاں کی عوامی لیگ حکومت کی طرف سے اسلام پسندوں اور حزب اختلاف کو منظر عام سے ہٹانے کی ایک سازش ہی۔ بنگلہ دیشی اعلیٰ عدالت کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کی عدالتیں بھی حکومتی اثر ورسوخ میں ہیں اور سیاسی انتقام گیری کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔۱۷۹۱ئ؁ میں بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے وقت کی کارروائیوں کو بنیاد بناکر جس طرح نام نہاد انٹرنیشنل وار کرائمز ٹریبونل کا قیام عمل میں لایا گیا اس پر دنیا بھر کے ماہرین قانون و انصاف نے سخت اعتراضات کرکے ان کو عدالت ماننے سے ہی احتراز کیا ہی۔ اس ٹریبونل نے انصاف کے بنیادی تقاضوں کو جس طرح پامال کیا ہے اس کی بہت ہی کم مثالیں دُنیا کے ظالم ترین نظام حکومتوں میں ملتی ہیں۔ ظلم کو عدل سے تعبیر کرکی، بنگلہ دیشی عدالت نے عدل کا مفہوم ہی تبدیل کیا ہے او ر عدالتوں کو سیاسی انتقام گیری کا ایک ذریعہ بناکر رکھ دیا ہی۔
جماعت اسلامی جموں وکشمیر شیخ حسینہ حکومت کی طرف سے بنگلہ دیش کے اسلام پسندوں اور حزب اختلاف کے خلاف شروع کی گئیں سیاسی انتقام گیری پر مبنی کارروائیوں کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی او رحکومتی دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے اس کی کڑی مذمت کرتی ہے او رعدل و انصاف سے متعلق عالمی اداروں کو اس صورتحال کا سنگین نوٹس لینے کی اپیل کرتی ہی۔

Read 322 times