Print this page
Sunday, 08 November 2015 17:49

نوجوان نسل کو ٹارگٹ بنانا بربریت کی واضح مثال

Rate this item
(0 votes)

حکومت وردی پوش اہلکاروں کو قابو میں رکھے//جماعت اسلامی
سرینگر//بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی کشمیر آمد کے موقعہ پر یہاں کے عوام کو اپنے گھروں میں محسور کرنے کے علاوہ نہتے اور پُرامن مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی جانب سے طاقت کے بے تحاشہ استعمال نے ثابت کردیا کہ ’’خیالات کی جنگ‘‘ لڑنے کا دعویٰ کرنے والی ریاستی حکومت کس قدر کمزور ہے اور طاقت کے بل پر کشمیریوں کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روک دینا اُن کی ناکامی کا برملا ثبوت ہے۔ نریندر مودی کے جلسہ کی خاطر فوج اور نیم فوجی دستوں نے جہاں مجبور عوام کا چلنا پھرنا دوبھر کردیا ہے وہیں شام گئے سرینگر کے زینہ کوٹ علاقہ میں ایک انجینئرنگ کے طالب علم گوہر نذیر ڈار ولد نذیر احمد ڈار ساکن مصطفے آباد ایچ ایم ٹی کو راست ٹیر گیس شل کا نشانہ بناکر اس معصوم کو ابدی نیند سلادیا گیا۔ پولیس اور فورسز اہلکاروں کا اب یہ معمول بن چکا ہے کہ وہ یہاں کی نوجوان نسل کو تشدد کا نشانہ بناکر اپنی بربریت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس پر المیہ یہ کہ کشمیری عوام کی اس نسل کشی کا پوری دنیا تماشہ دیکھ رہی ہے اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بھی آنکھیں بند کرکے اپنی دوغلی پالیسی کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ یہاں کی حکومت مالی پیکیجوں کی خاطر کشمیریوں پر ہورہے انسانیت سوز مظالم پر نہ صرف خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہے بلکہ یہاں کی نوجوان نسل کے قتل عام میں برابر کی شریک ہے۔ پولیس، فوج و نیم فوجی دستوں کو کھلے اختیارات فراہم کئے گئے ہیں اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والا ملک اپنے ظلم، جبر و استبداد کو قائم رکھنے کے لیے جمہوریت کی تمام قدروں کو پاؤں تلے روند ے جارہا ہے۔
جماعت اسلامی جموں وکشمیر‘ معصوم طالب علم گوہر نذیر ڈار کی شہادت پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس سانحہ کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتی ہے اور حکومت وقت کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے کر وردی پوش اہلکاروں کو قابو میں رکھے۔ مزید گوہر نذیر ڈار کے لواحقین سے بھی تعزیت کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ شہید کے قاتلوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

Read 338 times