Top Panel
You are here: HomeNewsعید کا پیغام
Wednesday, 23 September 2015 19:13

عید کا پیغام

Rate this item
(0 votes)

عید الاضحی کی یہ مقدس تقریب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اسلام ہمیشہ اپنے ماننے والوں سے بے لوث اور والہانہ قربانیوں کا طلبگار ہے۔ اسلام ہی وہ ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے لیے تمام آلام و مصائب سے نجات حاصل کرنے کا واحد ضامن ہے مگر ہدایت کی اس راہِ مستقیم پر چلنے کے لیے وقت وقت پر قربانی دینی پڑتی ہے‘ خواہشات کی قربانی، عیش و عشرت کی قربانی، مال و جان اور وقت کی قربانی، قرابت اور رشتے کی قربانی، کیوں کہ یہی قربانی صدق و وفا کا عملی ثبوت اور ترقی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ قربانی کا ہی دوسرا نام شہادت ہے اور قر بانی سے ہی اللہ کی رضا مندی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے اور قربانی دینے والا

شخص ہی وفاداری کی سند پاکر اللہ کی نصرت و فتح سے ہمکنار ہوتا ہے۔
حضرت خلیل اللہ علیہ السلام ایثار و قربانی کا مجسمہ ہیں اور آپؑ نے قربانی کے تمام مراحل کو انتہائی خوش اسلوبی سے طے کرکے اللہ سے وفاداری کی سند حاصل کرلی اور اس طرح آپؑ کا طریقہ جملہ عالم کے لیے مثالی قرار پایا اور اللہ کے آخری اور کامل پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی ملت کو قائم فرمایا اور ہر مسلمان کے لیے اسی ملت پر چلنے کو واجب ٹھہرایا گیا ہے۔ حضرت خلیلؑ کی ساری زندگی قربانی سے عبارت ہے۔ سن شعور سے لے کر بڑھاپے تک آپ علیہ السلام راہِ حق میں قربانی پہ قربانی دیتے رہے اور کبھی کوئی حرف شکایت بھی آپ علیہ السلام کی مقدس زبان پر نہ آیا۔ آپ علیہ السلام اپنے خاندان، قوم اور وطن کی قربانیوں دے کر آخر پر اپنے اکلوتے فرزند حضرت اسماعیلب علیہ السلام کو ذبح کرنے کے لیے بھی بصدق دل تیار ہوگئے جب اسماعیل علیہ السلام چلنے پھرنے اور باتیں کرنے لگا تو حضرت خلیل علیہ السلام کو خواب میں اپنے اس اکلوتے فرزند کو ذبح کرنے کا اشارہ ملا۔ دونوں باپ بیٹے بصد خوشی اس کے لیے تیار ہوگئے اور اللہ نے جب اپنے محبوب بندے کو ہر آزمائش میں پختہ پایا تو اعلان ہوا کہ:
’’یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ اُن سب میں پورا اُتر گیا‘ تو اُس نے کہا: ’’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں‘‘۔ ابراہیمؑ نے عرض کیا: ’’اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے‘‘؟ اس نے جواب دیا: ’’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے‘‘۔ (البقرۃ:۱۲۴)
اور اس طرح خلیل اللہؑ کو امام الناس کا درجہ عظیم حاصل ہوا۔ اسی اُسوہ کو اختیار کرکے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آبا سے بھی بڑھ کر ’’امامت عالم‘‘ کا عظیم ترین درجہ حاصل فرمالیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت بھی ’’خیر اُمت‘‘ کا لقب حاصل کرگئی لیکن صدق و وفا کی راہ سے ہٹ جانے کے سبب یہ اُمت اپنا مقام کھوگئی ہے۔ ناگزیر ہے کہ اُمت مسلمہ صدق و وفا کی راہ کو دوبارہ اختیار کرکے‘ اپنے محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں اُسی طرح کی وفاداری کا عملی ثبوت دے جس کا ثبوت حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اپنے والد مکرم حضرت خلیل علیہ السلام کے سامنے یہ کہہ کر پیش کیا:
’’اُس نے کہا ’’بیٹا‘ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں‘ اب تو بتا، تیرا کیا خیال ہے‘‘؟ اُس نے کہا، ’’ابّا جان، جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے اسے کر ڈالیے‘ آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘۔ (الصٰفٰت:۱۰۲)
رواں دور زوال اُمت کا دور ہے اور اسلام پھر اپنے ماننے والوں سے مخلصانہ قربانیوں کا تقاضا کرتا ہے اور اللہ کی رضامندی کا حصول بھی انہی قربانیوں سے مشروط ہے۔ عید الاضحی کی یہ مقدس تقریب ہمیں یہی سبق یاد دلاتی ہے اور حج کے مناسک اور جانوروں کی قربانی میں بھی یہی سبق پنہاں ہے۔
خوشی کے اس موقعہ پر ہمیں اُن بھائیوں کو نہ بھولنا چاہیے جو مادی اسباب کی کمی کی وجہ سے اپنی ضروریات زندگی پورا کرنے سے قاصر ہوں۔اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو راہِ حق میں استقامت سے نوازکر اپنے وفادار بندے اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخلص اُمتی بننے کی توفیق دے اور اُمت مسلمہ کو دوبارہ ’’امامت عالم‘‘ کے منصب جلیلہ پر فائز فرمائے۔ آمین
غلام محمد بٹ‘ امیر جماعت اسلامی جموں وکشمیر

Read 307 times

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker