Top Panel
You are here: HomeNewsپریس ریلیزبابت پریس کانفرنس منعقدہ۱۰؍ستمبر۲۰۱۵ء ؁
Thursday, 10 September 2015 12:09

پریس ریلیزبابت پریس کانفرنس منعقدہ۱۰؍ستمبر۲۰۱۵ء ؁

Rate this item
(2 votes)

۱۰؍ستمبر۲۰۱۵ء
(۱)۔جماعت اسلامی اور مسئلہ کشمیر:
جماعت اسلامی اگست۱۹۴۱ء ؁ میں تحریک اقامت دین کی حیثیت سے پٹھانکوٹ پنجاب میں معرض وجود میں آئی اور جموں وکشمیر میں اس کی ایک باضابطہ اکائی ۱۹۴۵ء ؁ میں قائم ہوگئی۔ ۱۹۴۷ء ؁ میں تقسیم ہند کے بعد جموں وکشمیر کا خطہ متنازعہ بن گیا اور بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ اُٹھاکر ریاست عوام سے سیکورٹی کونسل میں پاس شدہ قرار داد کے ذریعے یہ وعدہ کیا کہ حالات کی خوشگواری کے ساتھ ہی انہیں استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا لیکن۱۹۵۳ء ؁ میں اُس وقت کے ریاستی وزیر اعظم مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی حکومت کو بلاجواز برطرف کرکے، بھارتی حکومت نے یہ واضح اشارہ دیا کہ کشمیری عوام کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوگا۔ اُس وقت جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے ریاست کی بین الاقوامی متنازعہ حیثیت کے پیش نظر اپنا الگ دستور تشکیل دیا حالانکہ نصب العین اور مقصد کے لحاظ سے جماعت اسلامی ہند کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس طرح جماعت اسلامی جموں وکشمیر نے اس ریاست کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے یہ مستحکم مؤقف اختیار کیا کہ اس مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل یہاں کے عوام کی اُمنگوں اور خواہشات میں ہی مضمر ہے۔ اس مسئلے کی موجودگی سے نہ صرف برصغیر ہند وپاک کی دو ہمسایہ مملکتوں بلکہ پورے جنوبی ایشیا کا امن داؤ پر لگا ہوا ہے اور اسی مسئلے کی وجہ سے ان دو ممالک میں اب تک تین جنگیں بپا ہوچکی ہیں ۔ دونوں ممالک کو کافی جانی ومالی نقصان پہنچا۔ حد متارکہ اور سرحدوں پر بار بار کشیدگی کی فضا برپا ہوجاتی ہے جو عوام کے لیے بے پناہ مصائب کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے بجٹ کا بیشتر حصہ ترقیاتی کاموں اور غریب عوام کی خوشحالی کے بجائے غیر ضروری جنگی ساز و و سامان کی تیاری میں صرف ہوجاتا ہے۔۱۹۸۹ء ؁ کے بعد گزشتہ چھبیس برس کی مدت کے دوران ریاست کی طول و عرض میں عوام نے جو مصائب جھیلے اور جس ظلم و زیادتی کا سامنا کیا، اُس کی بہت ہی کم مثالیں تاریخ عالم میں ملتی ہیں، ایک لاکھ سے زائد افراد زندگی سے محروم ہوگئے۔بستیوں کی بستیاں اُجڑ گئیں، ہزاروں کی تعداد میں لوگ تعذیب خانوں او رجیلوں میں نظر بند کئے گئے۔ ہزاروں کی تعداد میں عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوگئے۔ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول قائم ہوگیا اور بدترین غیر یقینی حالات نے جنم لیا جو اب بھی موجودہ ہیں۔ لیکن نہ ہی اقوام عالم نے اس نازک ترین انسانی مسئلے کی طرف وہ توجہ کی جس کا یہ مستحق ہے اور نہ ہی بھارتی حکمرانوں نے کوئی ایسا ٹھوس قدم لیا جو عوام کے لیے کوئی امید


افزاء پیغام دیتا نتیجتاً ہر طرف اضطراب و تذبذب کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جماعت اسلامی جموں کشمیر کا یہ دیرینہ مؤقف ہے کہ اس انسانی مسئلے کو یہاں(آر پار) کے عوام کی اُمنگوں اورخواہشات کے مطابق یا تو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یا سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے دائمی طور پر حل کیا جائے۔ ان مذاکرات میں جموں وکشمیر کے عوام کو بحیثیت ایک بنیادی فریق کے شامل کرکے، اس مسئلے کا یہاں کے عوام کے لیے ایک قابل قبول حل تلاش کیا جائے۔ جماعت اس حقیقت کا برملا اظہار کرنے میں کوئی باک محسوس نہیں کرتی ہے کہ اس مسئلے کے منصفانہ اور دائمی حل کے بغیر، ہند و پاک کے دو برادر ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا قائم ہونا محال ہے حالانکہ جماعت ان دو ممالک کے درمیان ان تعلقات کے قائم ہونے کی متمنی ہے۔ اس بنیادی مسئلے کے عادلانہ حل سے دیگر ثانوی مسائل کا بہ آسانی حل ہونا یقینی ہے۔
(۲)۔ تنظیمی استحکام اور اشاعتِ دعوت:
جماعت اسلامی کے اندرونی صفوں میں مزید استحکام پیدا کرنا اور دعوت دین کی وسیع پیمانے پر اشاعت کے اُمور ہمارے اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی جو ریاست کی سب سے بڑی دینی و فلاحی تنظیم ہے اور عوام کا ایک بہت بڑا طبقہ نظریاتی طور اس سے وابستہ ہے مگر دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں ، اُن کا توڑ کرنے کی خاطر وسیع پیمانے پر دعوتی پروگراموں کا انعقاد ہوگا اور اس کے لٹریچر کو عوام کی بنیادی سطح تک پہنچانے کی خاطر مؤثراقدامات کیے جائیں گے۔ بستی بستی جماعت کی دعوت پہنچانے کی خاطر مربوط پالیسی اختیار کی جائے گی اور دعوتی مراکز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔
(۳)۔ اتحاد ملّت کے حوالے سے جماعت کی خواہش:
اُمت مسلمہ کے دائمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے کہ اس اُمت کی بنیاد قرآن و سنت کے اصولوں پر استوار ہو اور اُمت سے وابستہ مختلف مکاتب فکر اور مسالک کے درمیان اصولی اتحاد قائم ہو اور فروعی و ذیلی اختلافات کو نظر انداز کرکے، اتحاد ملت کے قیام کو اولین ترجیح دی جائے۔ جماعت اسلامی جموں وکشمیر کا اس بارے میں اول روز سے ہی یہ واضح مؤقف رہا ہے کہ جموں وکشمیر کی تمام دینی تنظیموں کا ایک متحدہ پلیٹ فارم ہو اور اس سلسلے میں جماعت نے ہر وقت اتحاد کی دعوت کو قبول کیا ہے اور اس وقت بھی جماعت اتحاد ملت کی متمنی ہے اور اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا ہر وقت والہانہ استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔
(۴)۔ ریاست کی مسلم اکثریتی کردار کا تحفظ:
جماعت اسلامی ریاست کے مسلم اکثریتی کردار اور مسلمانوں کی دینی شناخت کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھتی ہے اور اس کردار کو کمزور کرنے یا اسلام سے مسلمانوں کے رشتہ میں رخنہ ڈالنے والوں کی ہر مکروہ سازش کابھرپور مقابلہ کرنے کا عزم رکھتی ہے۔ ریاست میں چند فرقہ پرست تنظیمیں جن کی سرپرستی ہندتوا فلسفہ کی علمبردار آر ایس ایس کررہی ہے، یہاں کے مسلم اکثریتی کردار کو زک پہنچانے کی درپے ہیں۔ نیز مسلمانوں کی دینی شناخت کو مشتبہ بنانے کی خاطر، کئی عناصرسازشوں میں لگے ہیں اور اس سلسلے میں تہذیبی جارحیت اور غیر اسلامی نظریات کے پھیلاؤ کے ذریعے وہ مسلمانوں کو اسلام سے بیگانہ بنانے کے لیے مختلف حربے آزما رہے ہیں۔

(۵)۔ مائنگرنٹ پنڈتوں کی واپسی:
۱۹۹۰ء ؁ میں کشمیرمیں اپنے آبائی گھر چھوڑ کر جموں اور دیگر علاقوں کی طرف چلے جانے والے پنڈت برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی گھر واپسی اُن کا حق ہے اور جماعت اسلامی اُن کی گھر واپسی کا خیر مقدم کرتی ہے البتہ اُن کے لیے وادی میں سیکورٹی حصار میں الگ کالونیاں قائم کرنا، صدیوں پرانی فرقہ وارانہ رواداری اور بھائی چارے کے بالکل خلاف ہونے کے علاوہ یہاں کے مسلمانوں کے مفادات کو زک پہنچانے کی ایک مکروہ سازش ہے۔ اس لیے اس طرح کی الگ پنڈٹ کالونیاں یہاں کے عوام کے لیے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی ہیں اور نہ ہی باہمی رواداری پر یقین رکھنے والے پنڈت برادری کے لوگ ہی ایسا پسند کریں گے۔
(۶)۔ جیلوں میں نظر بند سیاسی نظربندوں اور قیدیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی:
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مختلف زنداں خانوں اور نظر بندی کے دیگر مراکز میں محروس سیاسی زعماء اور کارکنوں کے ساتھ جماعت اسلامی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے، اُن کی محبوسیت کو بلاجواز قرار دیتی ہے اور اُن کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا زور دار مطالبہ کرتی ہے۔ نیز جن محبوسین کو مختلف الزامات کی آڑ میں عمر قید کی سزائیں دلوائی گئیں اور طویل عرصے تک قید میں رہنے کے باوجود انہیں دہشت گردی کا لیبل لگا کر رہا نہیں کیا جاتا ہے، یہ ان کے ساتھ سراسر زیادتی ہے کیونکہ اُن کو دہشت گرد کہنا ہی خلاف حقیقت ہے۔
اس کے ساتھ ہی وادی کے طول و عرض میں بے گناہ نوجوانوں کی گرفتاری کا جو چکر شروع کیا گیا ہے اور اُن پر بلاجواز الزامات لگا کر این آئی اے کے حوالے کرکے اُن کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے، جماعت اسلامی اس سلسلے کو فوری طور پر بند کرنے پر زور دیتی ہے اور این آئی اے(NIA) کی یہاں کے معاملات میں مداخلت کو بھارتی آئین کے ناقابل تنسیخ دفعہ۳۷۰؍کے تحت ریاست کو حاصل اندرونی خود مختاری کے منافی قرار دیتی ہے۔واضح رہے حق خود ارادیت کے حصول تک دفعہ۳۷۰؍ریاستی جغرافیائی حدود کے تحفظ کی ایک مضبوط ضمانت ہے۔
(۷)۔ جموں کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی:
چند فسطائی قوتیں جموں میں مسلمانوں کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کی مذموم کو ششوں میں مصروف ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دے کر، مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا قائم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ جماعت اسلامی ان فرقہ پرست قوتوں کی سازشوں کی مذمت کرتے ہوئے، جموں کے مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور انہیں باہمی اتحاد و اتفاق اور فرقہ وارانہ رواداری کو مزید مستحکم کرنے کی تلقین کرتی ہے۔
(۸)۔ریاستی کی اقتصادی بدحالی پر اظہار تشویش:
جموں وکشمیر کو جان بوجھ کر اقتصادی بدحالی کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور یہاں کی پیداواری صلاحتیں روبہ زوال ہیں۔ یہاں کی میوہ صنعت کئی سال سے خسارے کا شکار ہے، اس صنعت سے وابستہ مقامی بیوپاریوں اور عوام کو کنگال بنانے کی خفیہ سازشیں روبہ عمل ہیں۔ یہاں درآمد ہونے والی اشیاء کی قیمتیں آئے روز بڑھ رہی ہیں جبکہ میوہ پیداوار سمیت یہاں سے برآمد ہونے والی تمام اشیاء کی قیمتوں کو روز بروز گھٹایا جارہا ہے

اور بھارت کی منڈیوں میں جان بوجھ کر یہاں سے برآمد ہونے والی اشیاء کی مانگ کم کروائی جارہی ہے۔جماعت اسلامی یہاں کی اقتصادی حالت کی روز افزوں ابتری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، اس شعبہ سے وابستہ مقامی ماہرین اور تاجر حضرات کو اس بارے میں کوئی مشترکہ ٹھوس لائحہ عمل اپنانے کی اپیل کرتی ہے۔
(۹)۔ عالمی صورتحال پر اظہار تشویش:
جماعت اسلامی عالمی صورتحال کی ابتری پر اظہار تشویش کرتی ہے علی الخصوص مسلمانوں کے حوالے سے اقوام عالم کی جو معاندانہ پالیسی روبہ عمل ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ فلسطین، شام، عراق، افغانستان ، میانمار، افریقہ وغیرہ ممالک میں استعماری قوتوں اور ان کے آلہ کار حکمرانوں کے ہاتھوں مسلمان عوام کو جس ظلم وجبر کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان بے گھر ہوکر بے بسی کی حالت میں مہا جرت کی زندگی بسر کررہے ہیں، جماعت اسلامی اس صورتحال کو مسلمانوں کے خلاف عالمی استعمار کی ایک گہری سازش کا شاخسانہ قرار دیتی ہے۔ نیز مصر اور بنگلہ دیش میں جس طرح امریکہ، اسرائیل اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کے آلہ کار حکمرانوں کے ہاتھوں اسلام پسند لوگوں کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، جماعت اسلامی اس کو انسان کے بنیادی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

Read 444 times

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker