Top Panel
You are here: HomeNewsجماعت اسلامی کی طرف سے بتہ مالو میں عید ملن کا اہتمام
Thursday, 23 July 2015 16:17

جماعت اسلامی کی طرف سے بتہ مالو میں عید ملن کا اہتمام

Rate this item
(0 votes)

سرینگر//جماعت اسلامی جموں وکشمیر مرکزی دفتر کے نزدیک مسجد الھدیٰ کے احاطے میں مجلسِ عید کی تقریب سعید زیر صدارت امیر جما عت محترم محمد عبدا للہ وانی بڑے تزک و احتشام سے منعقد ہوئی جس میں جماعتی ذمہ داروں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں عوامی نمائندگی کرنے والی ذی وقار شخصیات نے بھی شرکت کی جن میں علماء کرام ، دانشور و صحافی حضرات اور کشمیر بار ایسوسی ایشن سے وابستہ کئی وکلاء صاحبان بھی شامل تھے۔ تقریب کے آغاز میں تلاوت کلام مجید اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا مقدس فریضہ شیخ بشیر احمد اور عاشق منصور نہامی نے انجام دیا۔ اسکے بعد افتتاحی کلمات میں نائب امیر جماعت نے اس تقریب کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے، اسے ملی وحدت کی طرف ایک اہم پیش قدمی قرار دیا۔ امیر جماعت نے ’’ پیام عید‘‘ کے عنوان کے تحت ایک تحریری پیغام سامعین کی خدمت میں پڑھ کر پیش کیا۔ انہوں نے ماہِ رمضان کی فیوض و برکات کو اُجاگر کرتے ہوئے اس حقیقت کو واضح کیا کہ اصل میں عالم انسانیت کو تاریکیوں کے بھنور سے نکال کر علم و عمل کی ابدی اور لازوال روشنی کی طرف رہنمائی کی خاطر‘ اس بابرکت مہینے میں قرآن کی عظیم ترین نعمت سے بنی نوع انسان کو سرفراز کیا گیا۔

قرآن نے ہی عالم میں انسان کو وہ وقار اور شرف عطا فرمایا جو اُس نے دورِ ظلمت میں کھودیا تھا اور گمراہیوں کے عمیق دلدل میں پھنس کر حیوانوں سے بھی بدتر زندگی گزار رہا تھا۔ قرآن کی روشنی نے انسان کو ازسرنو وہ اعلیٰ ترین درجہ عطا کیاجس پر سرفراز ہوکر وہ اشرف المخلوقات کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے پیغمبر رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس اور بے لاگ سرکردگی میں اُس انقلاب کے خدوخال بھی بیان کئے جس کی بنا پر انسان پھر صداقت، عدالت اور امامت کی اُن راہوں پر گامزن ہوگیا جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے ‘ اور فتنہ و فساد کا کہیں کوئی نام و نشان بھی نہیں ہے۔ دنیانے اسلام اور اس کے علمبرداروں کے عملی نمونوں میں پھر وہ روشنی دیکھی جس سے وہ عرصۂ دراز سے محروم ہوچکا تھا۔ اسلام نے انسان کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف رہنمائی کی اوراسی کی برکت سے علمی میدان میں انسان نے حیرت انگیز کارنامے انجام دیے اور یہ سلسلہ ہنور جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے بخشے ہوئے نظام حیات نے انسان کو تمام مشکلات سے نجات دلوائی لیکن امتدادِ زمانہ کے ساتھ ہی انسان پیغبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ لایا ہوا سبق پھر بھول گیا اور آج ہر سو اور ہر طرف فتنوں اور فسادات نے عالم انسانیت کو اس طرح گھیر لیا ہے کہ لگتا ہے کہ شاید اب انسان ان اندھیروں میں کھوکر گم ہی نہ ہوجائے لیکن ایک اُمید ہے وہ مضبوط اور مستحکم امید قرآن کی شکل میں انسان کے پاس موجود ہے اور اگر عالم انسانیت ان اندھیروں سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس کو پھر اس کامل روشنی اور ہدایت کی طرف رجوع کرنا ہوگا جو قرآن پاک میں اصل شکل میں موجود ہے۔ مسلمان آپسی شکار کا انتشار ہیں اور کہیں مسلکوں کے نام پر اور کہیں خطوں کے نام پر ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں اور باطل کی شہ پر خونریزی کا شکار ہیں۔ اُمت مسلمہ ایک جسد واحد کی شکل کھوچکی ہے اور اب یہ مختلف مکاتب فکر اور مسلکوں کا شکار ہوکر تفرقہ زدہ ہوگئی ہے اور ہر جگہ اغیار اس پر حکمرانی کررہے ہیں۔ اگر اُمت پھر اپنا کھویا ہوا مقام بحال کرانا چاہتی ہے تو اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ پھر اس ابدی اور ازلی روشنی کی طرف رجوع کرے جس کو لے کر حضور اقدسﷺ نے اپنے مقدس دور میں انسانیت کو زندہ کیا تھا اور زندگی کا وہ نظام حق قائم کرکے دیا جس میں سب کے ساتھ یکساں سلوک، ایک دوسرے کی ہمدردی و غم خواری، مساوات و اتحاد اور نظم و ضبط کا سبق پنہاں تھا، سب کے لیے ایک ہی قانون تھا یہاں چھوٹا بھی بڑا‘ اور بڑا بھی بڑا ، کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا تھا، محتاج و محروم کی ضروریات فراہم کرنا سب سے بڑی عبادت سمجھی جاتی تھی۔ لوگوں کی خدمت کرنا، سعادت کے مترادف تھا، ظلم سب سے بڑا گناہ سمجھا جاتا تھا اور ظالم کو سب حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، عدل و انصاف سب سے بڑی نیکی تصور کی جاتی تھی۔
انہوں نے عالم اسلام کی گھمبیر صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے‘ اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی کہ اتحاد و اتفاق سے ہی ان استحصالی قوتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جنہوں نے ظلم و جبر کے پنجے اُمت مسلمہ کے نحیف جسم میں گاڑھ دئے ہیں۔ مصر، شام، عراق، بنگلہ دیش وغیرہ کی ابتر صورتحال کے تذکرے کے ساتھ ہی ریاست جموں وکشمیر میں ہورہے ظلم و ستم پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت نے ۱۹۴۷ء میں یہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف فوج کشی کرکے اس علاقے کو اپنے قبضے میں لیا ہے اور یہاں کے عوام سے یہ وعدہ کیا کہ حالات ٹھیک ہوتے ہی ان کو حق خود ارادیت کے تحت اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا آزادنہ موقعہ دیا جائے گا لیکن ۶۷؍برس گزر نے کے باوجود‘ جان بوجھ کر یہ وعدہ ٹالتا رہا اور اب اس وعدے سے ہی مکرگیا ہے اور مقبوضہ ریاست کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے لگا جو حقائق کے سراسر خلاف ہے۔جنوبی ایشیا کا امن درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے اور دو ہمسایہ ممالک ہندوپاک کے درمیان دائمی تلخی قائم ہے جو کسی بھی وقت ایک تباہ کن صورتحال اختیار کرسکتی ہے۔ اس خطے کے دائمی امن اور حقیقی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ اس مسئلے کو یہاں کے عوام سے کئے گئے بین الاقوامی وعدوں کے مطابق فوری طور پر حل کیا جائے۔
اس موقعہ پر انہوں نے راجوری میں چند ہندوفرقہ پرستوں کی طرف سے اسلامی جھنڈا جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا‘ جلائے جانے کی کارروائی کو مجرمانہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور اس شدید ترین جرم میں ملوث عناصر کی فوری سرکوبی پر زور دیا۔ انہوں نے راجوری کی سول اور پولیس انتظامیہ کی کارروائی کو یک طرفہ قرار دیتے ہوئے اس رویہ پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور راجوری کے عوام کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہر صورت میں برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ آخر پر قیم جماعت ڈاکٹر عبدالحمید فیاض نے اختتامی کلمات پیش کئے اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ دعا کے ساتھ ہی یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

Read 343 times

Al'Quraan

The woman and the man guilty of illegal sexual intercourse, flog each of them with a hundred stripes. Let not pity withhold you in their case, in a punishment prescribed by Allah, if you believe in Allah and the Last Day. And let a party of the believers witness their punishment. (This punishment is for unmarried persons guilty of the above crime but if married persons commit it, the punishment is to stone them to death, according to Allah's Law).

Al'Quraan Surah Noor

Prophet Mohammad PBUH

Narrated: Abu Huraira (R.A) that a man said to the Prophet, sallallahu 'alayhi wasallam: "Advise me! "The Prophet (PBUH) said, "Do not become angry and furious." The man asked (the same) again and again, and the Prophet said in each case, "Do not become angry and furious." [Al-Bukhari; Vol. 8 No. 137]

Sunan Abu-Dawud.

eXTReMe Tracker